قومی زبان

ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا

ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا گر بھلا مانس ہے اس کوچہ میں تو اے دل نہ جا اول عشق ان بتوں کا لطف ہے دام فریب اس کی مہر و دلبری پر اے دل مائل نہ جا تیغ کیں سے خاک و خوں میں کر لیا ہائے مجھے رقص بسمل کا تماشا دیکھ اے قاتل نہ جا ہم سری کا اس قد موزوں سے تو دعویٰ نہ کر اپنی حد ...

مزید پڑھیے

کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے

کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے رکھے دل کو مرے ناشاد جتنا اس کا جی چاہے ہمیں بھی صبر خاطر خواہ داد حق ہے الفت میں وہ دے جور و جفا کی داد جتنا اس کا جی چاہے یہ مظلوم محبت داد رس ہرگز نہ پاوے گا کرے دل داد اور فریاد جتنا اس کا جی چاہے عدم ہے اور وجود اس مشت پر کا بھی مساوی ...

مزید پڑھیے

رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر

رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر بہت سر کو واں ہم نے مارا زمیں پر جنوں جوش مارے ہے دیوار و در سے ہوا کس پری کا گزارا زمیں پر نہیں ہے یہ آہ فلک سا کہ ہم نے علم شور سودا کا گاڑھا زمیں پر قدم جس جگہ رکھا اس سنگ دل نے نہ ہو واں بجز سنگ خارا زمیں پر نظر سے تری جس نے ہم کو گرایا فلک سے ...

مزید پڑھیے

آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر

آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر پھر وہیں لے جائے مجھ کو بے قراری کھینچ کر پہنچا ہے اب تو نہایت کو ہمارا حال زار لا اسے جس تس طرح تاثیر زاری کھینچ کر کوہ غم رکھتی ہے دل پر اس خرام ناز سے خجلت رفتار کبک کوہساری کھینچ کر کس کے شور عشق سے یوں روتا رہتا ہے سدا نالہ و فریاد یہ ...

مزید پڑھیے

دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا

دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا منہ پھرا سوئے بدن جان بلب آتی کا یوں تو اے یار دل افروز تو سب کا ہے ولے داغ جاں سوز نرایا ہے مری چھاتی کا دل دم آہ سحرخیز چلا جاتا ہے مطربا چپ ہے تو کیوں وقت ہے پربھاتی کا دل افسردہ کو ہے سوز دروں سے کیا ربط کام کیا خانۂ ویراں میں دیے باتی کا اس ...

مزید پڑھیے

کم تر یا بیشتر گئے ہم

کم تر یا بیشتر گئے ہم اس در سے بہ چشم نم گئے ہم اک گل نہ چنا ہم اس چمن سے لے اپنا ہی مشت پر گئے ہم بیضے سے نکالتے ہی سر حیف یوں قید قفس میں پڑ گئے ہم بن یار لگا نہ دل کدھر بھی جتنا کہ ادھر ادھر گئے ہم کیا دور سے مسکرا کے سرکا کل اس کی نظر جو پڑ گئے ہم دنیا کا و دیں کا ہم کو کیا ...

مزید پڑھیے

یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا

یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا بے درد دل کے در پئے آزار ہی رہا جس دن سے دوست رکھتا ہوں اس کو حجاب حسن اپنا ہمیشہ دشمن دیدار ہی رہا یہ عشق پردہ در نہ چھپایا چھپا دریغ سیتا ہمیشہ میں لب اظہار ہی رہا قید فرنگ زلف نہ کافر کو ہو نصیب جو واں پھنسا ہمیشہ گرفتار ہی رہا جاں بخش تھا ...

مزید پڑھیے

دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم

دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم کہنا نہیں کر دکھاویں گے ہم یہ جور کوئی اٹھاوے کب تک اٹھ در ہی سے تیرے جاویں گے ہم گھر سے مجھے مت نکال سن رکھ جاویں گے تو پھر نہ آویں گے ہم تو قطع نظر تو ہم سے کر دیکھ نظروں سے تجھے گراویں گے ہم دو دن کبھو ترے گھر نہ آویں گھر اپنے تجھے بلاویں گے ہم گھر ...

مزید پڑھیے

ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم

ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم بلبل و گل میں ہے چہ چہ شمع و پروانے میں دھوم فتنہ گر ہے ناز و عشوہ اس کی چشم شوخ میں جوں مچاویں پی کے مے بدمست مے خانے میں دھوم یاد میں اپنی ہے شاید وہ فرامش کار بھی دل کرے ہے مجھ سے اس کی یاد دلوانے میں دھوم جس طرح باد خزاں دیدہ میں آتی ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال

کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال تجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوال ہوں میں اک عاشق بے باک و خراباتی و رند مجھ سے مت پوچھ مرے علم و ادب کا احوال دل کو خالی کروں رو رو کے مگر میں بے کس کون سنتا ہے مرے رنج و تعب کا احوال محرم راز نہیں ملتا کوئی درد ہے یہ کیا طبیبوں سے کہوں عشق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3884 سے 6203