دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ
دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ کتنے خوابوں کی قسم کھائے ہوئے ہیں ہم لوگ ایک عالم کے حریف ایک زمانے کے نقیب جیسے تاریخ کے دہرائے ہوئے ہیں ہم لوگ ایک مدت ہوئی ہم ڈھونڈھ رہے ہیں خود کو اپنی آواز کے بھٹکائے ہوئے ہیں ہم لوگ جس کے شعلوں سے نمو پائیں گے کچھ پھول نئے آگ سینے میں وہ ...