قومی زبان

وہاں اب جا کے دیکھیں ہم سے کیا ارشاد کرتے ہیں

وہاں اب جا کے دیکھیں ہم سے کیا ارشاد کرتے ہیں قضا کہتی ہے چلئے آپ کو وہ یاد کرتے ہیں جناب واعظ و پیر مغاں کامل تو ہیں دونوں وہ کچھ ارشاد کرتے ہیں یہ کچھ ارشاد کرتے ہیں پئے تعظیم درد اٹھتا ہے اے ناوک فگن دل میں قدم رنجہ جو تیرے ناوک بیداد کرتے ہیں کبھی کرتے ہیں ہم بادہ پرستی جا ...

مزید پڑھیے

پتھر نظر تھی واعظ خانہ خراب کی

پتھر نظر تھی واعظ خانہ خراب کی ٹوٹی ہے کیا تڑاق سے بوتل شراب کی کچھ آسماں نے خاک اڑائی پس فنا کچھ تم نے اے بتو مری مٹی خراب کی پی کر نہ ضبط واعظ کم ظرف سے ہوا کیا اپنے ساتھ مے کی بھی مٹی خراب کی کانٹا ہوں باغ میں تو میں بجلی ہوں چرخ پر یہ رنگ لاغری ہے وہ شکل اضطراب کی بوئے شراب ...

مزید پڑھیے

شریر تیری طرح آنکھ بھی تری ہوگی

شریر تیری طرح آنکھ بھی تری ہوگی اٹھائی ہوگی قیامت بھی جب اٹھی ہوگی فشار گور سے وہ بھی تو پس گئی ہوگی جو دل میں کوئی تمنا رہی سہی ہوگی بھرا ہے خوب ہی رندوں نے اس کو اے واعظ اسی سے دختر رز آپ سے کھنچی ہوگی شراب آ کے تو شیشے میں بن گئی ہے پری جو آئی ہوگی یہ دل میں تو کیا بنی ...

مزید پڑھیے

موت آئی مجھے کوچے میں ترے جانے سے

موت آئی مجھے کوچے میں ترے جانے سے نیند آ ہی گئی جنت کی ہوا کھانے سے ہوں وہ عاشق کہ تہ قبر میں جل جاتا ہوں شمع تربت پر اگر ملتی ہے پروانے سے قصد اٹھنے کا قیامت نے کیا تو یہ کہا لو یہ سر چڑھنے لگی پاؤں کے ٹھکرانے سے وصل کی شب نہ کر اتنا بھی حجاب اے ظالم شوخیاں تنگ ہیں تیری ترے ...

مزید پڑھیے

کم ستم کرنے میں قاتل سے نہیں دل میرا

کم ستم کرنے میں قاتل سے نہیں دل میرا میرے پہلو میں چھپا بیٹھا ہے قاتل میرا وصل میں یوں مرے پہلو کو نہ پہلو سے دبا ٹوٹ جائے نہ کہیں آبلۂ دل میرا قتل ہونے نہ دیا اس کی نزاکت نے مجھے رہ گیا اپنا سا منہ لے کے وہ قاتل میرا ان کو نشہ ہے میں بے خود ہوں یہی ڈر ہے مجھے وہ کہیں حال نہ ...

مزید پڑھیے

بھر دیں شباب نے یہ ان آنکھوں میں شوخیاں (ردیف .. ے)

بھر دیں شباب نے یہ ان آنکھوں میں شوخیاں تل بھر بھی اب جگہ نہیں ان میں حیا کی ہے پھینک آئے اس کو جا کے وہ کوئے رقیب میں مٹی خراب میرے دل مبتلا کی ہے دیتا ہوں دل خوشی سے مری جان چھوڑیئے اس کو نہ لیجئے یہ امانت خدا کی ہے توبہ نہ منہ لگائے گی رندوں کو دخت رز قالب میں اس کے روح کسی ...

مزید پڑھیے

پھول اپنے وصف سنتے ہیں اس خوش نصیب سے

پھول اپنے وصف سنتے ہیں اس خوش نصیب سے کیا پھول جھڑتے ہیں دہن عندلیب سے افشاں تری جبیں کی ہماری نظر میں ہے ہم دیکھتے ہیں عرش کے تارے قریب سے تنہا لحد میں ہوں تو دباتے ہیں یہ مجھے کیا کیا الجھ رہے ہیں ملک مجھ غریب سے کعبہ میں ان کا نور مدینے میں ہے ظہور آباد دونوں گھر ہیں خدا کے ...

مزید پڑھیے

قطرے گرے جو کچھ عرق انفعال کے

قطرے گرے جو کچھ عرق انفعال کے دریا بہا دیے کرم ذوالجلال کے پہلو سے دل کو لے گئے وہ دیکھ بھال کے یوسف کو لے چلے ہیں کنویں سے نکال کے کیوں مٹی دینے آئے جو وعدہ تھا غیر سے جاتے کہاں ہو آنکھ میں تم خاک ڈال کے لبریز میں نے مے سے نہ دیکھا اسے کبھی پھوٹے نصیب ہیں مرے جام سفال کے ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیں

دکھاتے ہیں جو یہ صنم دیکھتے ہیں خدا کی خدائی کو ہم دیکھتے ہیں یہ حیوان ہے دست طالع پہ بھاری نئے جانور کا قدم دیکھتے ہیں زن و خویش و فرزند و دولت سے چھوٹے نہ دیکھے کوئی جو کہ ہم دیکھتے ہیں شہنشاہ ہم ہیں دلوں پر ہیں حاکم گدا تم کو اے ذی حشم دیکھتے ہیں فقط ہاتھ کالے نہیں بلکہ ...

مزید پڑھیے

حال دل اے بتو خدا جانے

حال دل اے بتو خدا جانے سچ ہے سچ اس کو غیر کیا جانے لطف اشعار پوچھ شاعر سے بے وفائی وہ بے وفا جانے پھوٹ کر محفلوں میں روتے ہو دل کا احوال کوئی کیا جانے سخت کوئی غزل میں پاتا ہوں نازکی میرا دل ربا جانے لاکھ میں فیصلہ چکاتے ہو مدعی کیوں نہ مدعا جانے مرض عشق میں اثر ہوگا میرا ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 384 سے 6203