قومی زبان

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے سندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیں ہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے بستی کی دیوار پہ کس نے ان ہونی باتیں لکھ دی ہیں اس ان جانے ڈر کی باتیں گھر گھر ہوں گی تب ...

مزید پڑھیے

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں چلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دل آزار کے لوگ موج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں اہل دنیا کا تو کیا ذکر کہ دیوانوں کو صاحبان دل شوریدہ بھی کب پوچھتے ہیں خاک اڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دن اول ...

مزید پڑھیے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے

میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہے گہرے زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہے بجھتے ہوئے دیئے کی لو اور بھیگی آنکھ کے بیچ کوئی تو ہے جو خوابوں کی نگرانی کرتا ہے مالک سے اور مٹی سے اور ماں سے باغی شخص درد کے ہر میثاق سے رو گردانی کرتا ہے یادوں سے اور خوابوں سے اور امیدوں سے ربط ہو جائے ...

مزید پڑھیے

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا

عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا دلوں کی بات بدن کی زباں سے کہہ دیتے یہ چاہتے تھے مگر دل ادھر نہیں آیا عجیب ...

مزید پڑھیے

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا جو دل میں ہے اب اس کا تذکرہ کرنا پڑے گا نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا لہو دینے لگی ہے چشم خوں بستہ سو اس بار بھری آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے ستارۂ سحری ڈوبنے کو آیا ہے ذرا کوئی مرے سورج کو با خبر کر ...

مزید پڑھیے

دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کی

دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کی اور دامن قاتل کی ہوا اور طرح کی دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر ہے کچھ اور دیتی ہے خبر خلق خدا اور طرح کی کس دام اٹھائیں گے خریدار کہ اس بار بازار میں ہے جنس وفا اور طرح کی بس اور کوئی دن کہ ذرا وقت ٹھہر جائے صحراؤں سے آئے گی صدا اور طرح کی ہم کوئے ...

مزید پڑھیے

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا اسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی تبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا وہی ...

مزید پڑھیے

یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے

یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے سبک ظرفوں کے قابو میں نہیں لفظ مگر شوق گل افشانی بہت ہے ہے بازاروں میں پانی سر سے اونچا مرے گھر میں بھی طغیانی بہت ہے نہ جانے کب مرے صحرا میں آئے وہ اک دریا کہ طوفانی ...

مزید پڑھیے

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے

بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہے آنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی مرا ہے جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے جو ہاتھ اٹھے تھے وہ سبھی ہاتھ تھے میرے جو چاک ہوا ہے وہ گریباں بھی مرا ہے جس کی کوئی آواز نہ پہچان نہ منزل وہ قافلۂ بے سر و ساماں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3833 سے 6203