یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا
یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا تباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگا یہاں تک آئی ہے بپھرے ہوئے لہو کی صدا ہمارے شہر میں کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا غبار کوچۂ وعدہ بکھرتا جاتا ہے اب آگے اپنے بکھرنے کا سلسلہ ہوگا صدا لگائی تو پرسان حال کوئی نہ تھا گمان تھا کہ ہر اک شخص ہم نوا ہوگا کبھی ...