قومی زبان

یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا

یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگا تباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگا یہاں تک آئی ہے بپھرے ہوئے لہو کی صدا ہمارے شہر میں کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا غبار کوچۂ وعدہ بکھرتا جاتا ہے اب آگے اپنے بکھرنے کا سلسلہ ہوگا صدا لگائی تو پرسان حال کوئی نہ تھا گمان تھا کہ ہر اک شخص ہم نوا ہوگا کبھی ...

مزید پڑھیے

اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے

اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے اجرت عشق وفا ہے تو ہم ایسے مزدور کچھ بھی کر لیں گے یہ محنت نہیں ...

مزید پڑھیے

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میں اب اپنے حجرۂ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو رہے سر دست بساط عافیت ...

مزید پڑھیے

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے پر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں وگرنہ صورت خاشاک در بہ در ...

مزید پڑھیے

سخن حق کو فضیلت نہیں ملنے والی

سخن حق کو فضیلت نہیں ملنے والی صبر پر داد شجاعت نہیں ملنے والی وقت معلوم کی دہشت سے لرزتا ہوا دل ڈوبا جاتا ہے کہ مہلت نہیں ملنے والی زندگی نذر گزاری تو ملی چادر خاک اس سے کم پر تو یہ نعمت نہیں ملنے والی راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی ہوس ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں

ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں مبادا مندمل زخموں کی صورت بھول ہی جائیں ابھی کچھ دن یہ گھر برباد رکھنا چاہتے ہیں بہت رونق تھی ان کے دم قدم سے شہر جاں میں وہی رونق ہم ان کے بعد رکھنا چاہتے ہیں بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت وفا پر ...

مزید پڑھیے

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی تمام شہر مکرم بس ایک مجرم میں سو میرے بعد مرا خوں بہا نہ مانگے کوئی کوئی تو شہر تذبذب کے ساکنوں سے کہے نہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ مانگے ...

مزید پڑھیے

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی لہو کی آگ میں جل بجھ گئے بدن تو کھلا رسائی میں بھی خسارہ ہے نارسائی میں بھی بدلتے رہتے ہیں موسم گزرتا رہتا ہے وقت مگر یہ دل کہ وہیں کا وہیں جدائی میں بھی لحاظ حرمت پیماں نہ پاس ہم خوابی عجب طرح کے ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو مزاج پرسی باد صبا گوارا ...

مزید پڑھیے

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا دمشق مصلحت و کوفۂ نفاق کے بیچ فغان قافلۂ بے نوا کی قیمت کیا مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا قمار خانۂ ہستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3832 سے 6203