قومی زبان

خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ

خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ ذرا سی دیر کا ہے یہ عروج مال و منال ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ یہ بار بار کنارے پہ کس کو دیکھتا ہے بھنور کے بیچ کوئی حوصلہ اچھال ...

مزید پڑھیے

غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیا

غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیا گھر کو جلا کے خاک اڑا دی گئی تو کیا غارت گریٔ شہر میں شامل ہے کون کون یہ بات اہل شہر پہ کھل بھی گئی تو کیا اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا میثاق اعتبار میں تھی اک وفا کی شرط اک شرط ہی تو تھی جو اٹھا دی گئی ...

مزید پڑھیے

کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے

کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے روز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہے موج خوں سر سے گزرنی تھی سو وہ بھی گزری اور کیا کوچۂ قاتل کی ہوا چاہتی ہے شہر بے مہر میں لب بستہ غلاموں کی قطار نئے آئین اسیری کی بنا چاہتی ہے کوئی بولے کے نہ بولے قدم اٹھیں نہ اٹھیں وہ جو اک دل میں ہے دیوار اٹھا ...

مزید پڑھیے

اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے

اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہے مٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہے محرابوں سے محل سرا تک ڈھیروں ڈھیر چراغ جلتے جاتے ہیں بے نوری بڑھتی جاتی ہے کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے جیسے جیسے جسم تشفی پاتا جاتا ہے ویسے ویسے قلب سے دوری بڑھتی ...

مزید پڑھیے

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو In realms of light, in my dark nights, be with me I wander in strange ways? You must be with me میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو I tell you lies? You must speak truly to me In all the seasons of my heart, be with me میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ...

مزید پڑھیے

سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے

سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہے کنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے وہ جس کی جرأت پرواز کے چرچے بہت تھے وہی طائر ہمیں بے بال و پر کیوں لگ رہا ہے وہ جس کے نام سے روشن تھے مستقبل کے سب خواب وہی چہرہ ہمیں نا معتبر کیوں لگ رہا ہے بہاریں جس کی شاخوں سے گواہی مانگتی تھیں وہی ...

مزید پڑھیے

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر اس پونجی پر ...

مزید پڑھیے

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب جس کی ڈھالیں چمک ...

مزید پڑھیے

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے

شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے نئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے وقت نے ایسے گھمائے افق آفاق کہ بس محور گردش سفاک سے خوف آتا ہے یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے آگ جب آگ سے ...

مزید پڑھیے

ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم

ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہم پھر اس کے بعد نظر سے گرا دئے گئے ہم عزیز تھے ہمیں نو واردان کوچۂ عشق سو پیچھے ہٹتے گئے راستہ دئے گئے ہم شکست و فتح کے سب فیصلے ہوئے کہیں اور مثال مال غنیمت لٹا دئے گئے ہم زمین فرش گل و لالہ سے سجائی گئی پھر اس زمیں کی امانت بنا دئے گئے ہم دعائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3831 سے 6203