خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ ذرا سی دیر کا ہے یہ عروج مال و منال ابھی سے ذہن میں سب زاویے زوال کے رکھ یہ بار بار کنارے پہ کس کو دیکھتا ہے بھنور کے بیچ کوئی حوصلہ اچھال ...