خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی
خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی میں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچا لے مجھے کوئی اپنی دنیا کے مہ و مہر سمیٹے سر شام کر گیا جادۂ فردا کے حوالے مجھے کوئی اتنی دیر اور توقف کہ یہ آنکھیں بجھ جائیں کسی بے نور خرابے میں اجالے مجھے کوئی کس کو فرصت ہے کہ تعمیر کرے از سر نو خانۂ خواب کے ...