قومی زبان

خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی

خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئی میں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچا لے مجھے کوئی اپنی دنیا کے مہ و مہر سمیٹے سر شام کر گیا جادۂ فردا کے حوالے مجھے کوئی اتنی دیر اور توقف کہ یہ آنکھیں بجھ جائیں کسی بے نور خرابے میں اجالے مجھے کوئی کس کو فرصت ہے کہ تعمیر کرے از سر نو خانۂ خواب کے ...

مزید پڑھیے

جنوں کا رنگ بھی ہو شعلۂ نمو کا بھی ہو

جنوں کا رنگ بھی ہو شعلۂ نمو کا بھی ہو سکوت شب میں اک انداز گفتگو کا بھی ہو میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو وہ جس کے چاک گریباں پہ تہمتیں ہیں بہت اسی کے ہاتھ میں شاید ہنر رفو کا بھی ہو وہ جس کے ڈوبتے ہی ناؤ ڈگمگانے لگی کسے خبر وہی تارا ...

مزید پڑھیے

بارہواں کھلاڑی

خوش گوار موسم میں ان گنت تماشائی اپنی اپنی ٹیموں کو داد دینے آتے ہیں اپنے اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں میں الگ تھلگ سب سے بارہویں کھلاڑی کو ہوٹ کرتا رہتا ہوں بارہواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے کھیل ہوتا رہتا ہے شور مچتا رہتا ہے داد پڑتی رہتی ہے اور وہ الگ سب سے انتظار کرتا ...

مزید پڑھیے

ایک شاعر ایک نظم

اپنے شہسواروں کو قتل کرنے والوں سے خوں بہا طلب کرنا وارثوں پہ واجب تھا قاتلوں پہ واجب تھا خوں بہا ادا کرنا واجبات کی تکمیل منصفوں پہ واجب تھی منصفوں کی نگرانی قدسیوں پہ واجب تھی وقت کی عدالت میں ایک سمت مسند تھی ایک سمت خنجر تھا تاج زرنگار اک سمت ایک سمت لشکر تھا اک طرف مقدر ...

مزید پڑھیے

یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا

یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا میں جس میں رہ رہا تھا وہی گھر مرا نہ تھا میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا موج ہوائے شہر مقدر جواب دے دریا مرے نہ تھے کہ سمندر مرا نہ تھا پھر بھی تو سنگسار کیا جا رہا ہوں میں کہتے ہیں نام تک سر محضر مرا نہ ...

مزید پڑھیے

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگا مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا چراغ حجرۂ درویش کی بجھتی ہوئی لو ہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہوگا کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ...

مزید پڑھیے

ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں

ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں سروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں کبھی چھپے ہوئے خنجر کبھی کھنچی ہوئی تیغ سپاہ ظلم کے ایک ایک ڈھب سے واقف ہیں وہ جن کی دستخطیں محضر ستم پہ ہیں ثبت ہر اس ادیب ہر اس بے ادب سے واقف ہیں یہ رات یوں ہی تو دشمن نہیں ہماری کہ ہم درازئ شب غم کے سبب ...

مزید پڑھیے

غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے

غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے بہم ہوئے بغیر جو گزر گئیں وہ ساعتیں وہ ایک ایک پل شمار کرنے والے کیا ہوئے دعائے نیم شب کی رسم کیسے ختم ہو گئی وہ حرف جاں پہ اعتبار کرنے والے کیا ہوئے کہاں ہیں وہ جو دشت آرزو میں خاک ہو گئے وہ لمحۂ ابد ...

مزید پڑھیے

حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلا

حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلا جسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلا سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا ہماری گرمئ گفتار بھی رہی بے سود کسی کی چپ کا بھی مطلب عجب عجب نکلا بہم ہوئے بھی مگر دل کی وحشتیں نہ گئیں وصال میں بھی دلوں کا غبار کب نکلا ابھی اٹھا ...

مزید پڑھیے

فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئے

فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئے قلم ہے رقص میں آشوب جاں کے ہوتے ہوئے ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے بضد ہے دل کہ نئے راستے نکالے جائیں نشان رہگزر رفتگاں کے ہوتے ہوئے جہان خیر میں اک حجرۂ قناعت و صبر خدا کرے کہ رہے جسم و جاں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3830 سے 6203