بدن دریدہ روحوں کے نام ایک نظم
خوابوں سے تہی بے نور آنکھیں ہر شام نئے منظر چاہیں بے چین بدن پیاسی روحیں ہر آن نئے پیکر چاہیں بے باک لہو ان دیکھے سپنوں کی خاطر جانے ان جانے رستوں پر کچھ نقش بنانا چاہتا ہے بنجر پامال زمینوں میں کچھ پھول کھلانا چاہتا ہے یوں نقش کہاں بن پاتے ہیں یوں پھول کہاں کھلنے والے ان بدن ...