قومی زبان

بدن دریدہ روحوں کے نام ایک نظم

خوابوں سے تہی بے نور آنکھیں ہر شام نئے منظر چاہیں بے چین بدن پیاسی روحیں ہر آن نئے پیکر چاہیں بے باک لہو ان دیکھے سپنوں کی خاطر جانے ان جانے رستوں پر کچھ نقش بنانا چاہتا ہے بنجر پامال زمینوں میں کچھ پھول کھلانا چاہتا ہے یوں نقش کہاں بن پاتے ہیں یوں پھول کہاں کھلنے والے ان بدن ...

مزید پڑھیے

محبت کی ایک نظم

مری زندگی میں بس اک کتاب ہے اک چراغ ہے ایک خواب ہے اور تم ہو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھا تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثۂ زندگی ہے اسی کو زاد سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے دل کے جادۂ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ...

مزید پڑھیے

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میں ہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریت بکھر جائے گی جب عمر رواں کیسا لگے گا اسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کی گرے گی جس گھڑی ...

مزید پڑھیے

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں پھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میں وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں جنہیں متاع دل و جاں سمجھ رہے تھے ہم وہ آئنے بھی ہوئے بے حجاب آنکھوں میں عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے ...

مزید پڑھیے

حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے

حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا اس بار تو ہم شہہ کے مصاحب بھی نہیں تھے بیچ آئے سر قریۂ زر جوہر پندار جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں

منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں اے اجر عظیم دینے والے! توفیق گناہ چاہتا ہوں میں شعلگئ وجود کے بیچ اک خط سیاہ چاہتا ہوں ڈرتا ہوں بہت بلندیوں سے پستی سے نباہ چاہتا ہوں وہ دن کہ تجھے بھی بھول جاؤں اس دن سے پناہ چاہتا ہوں

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں

کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میں رات گزار دی گئی صبح کے انتظار میں باب عطا کے سامنے اہل کمال کا ہجوم جن کو تھا سرکشی پہ ناز وہ بھی اسی قطار میں جیسے فساد خون سے جلد بدن پہ داغ برص دل کی سیاہیاں بھی ہیں دامن داغدار میں وقت کی ٹھوکروں میں ہے عقدہ کشائیوں کو زعم کیسی الجھ ...

مزید پڑھیے

سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی

سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی سر شام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئی مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی کوئی بات بن کے بگڑ گئی تو پتہ چلا مرے بے وفا نے کرم کیا تو خبر ہوئی مرے ہم سفر کے سفر ...

مزید پڑھیے

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی دل کو خوں ہونے دیا آنکھ کو زحمت نہیں دی ہم بھی اس سلسلۂ عشق میں بیعت ہیں جسے ہجر نے دکھ نہ دیا وصل نے راحت نہیں دی ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ دینے والے ...

مزید پڑھیے

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرض مگر یہ پیچ بہت ابتدا کا لگتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3829 سے 6203