قومی زبان

وصیت

میرے پاس تین چیزیں ہیں ریت مجھے وراثت میں ملی پتھر میں نے محنت سے کمایا اور یہ تھوڑی سی دھوپ مجھے سڑک پر پڑی ہوئی ملی میں نے ریت سے اپنی عمر بنائی میں نے پتھر اپنے پیٹ پر باندھا میں نے دھوپ سے اپنا سایہ بنایا میں اپنے سائے میں چلتا ہوں میں اپنی دھوپ میں جلتا ہوں میں کسی پیڑ کا ...

مزید پڑھیے

خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے

خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے جیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے دشمن کو مرتے دیکھ کے لوگوں کے سامنے دل ہنس رہا تھا آنکھ سے رونا پڑا مجھے کچھ اس قدر تھے پھول زمیں پر کھلے ہوئے تاروں کو آسمان میں بونا پڑا مجھے ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ کانٹوں کا ایک ہار پرونا پڑا ...

مزید پڑھیے

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے

بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھے آہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھے پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواں کس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے ماتھے پہ اس کے دیکھ کے لالی سندور کی زخموں کی انجمن میں حنا لے گئی مجھے خوشبو پگھلتے لمحوں کی سانسوں میں کھو گئی خوشبو کی وادیوں میں صبا لے گئی ...

مزید پڑھیے

گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہم

گھبرا گئے ہیں وقت کی تنہائیوں سے ہم اکتا چکے ہیں اپنی ہی پرچھائیوں سے ہم سایہ میرے وجود کی حد سے گزر گیا اب اجنبی ہیں آپ شناسائیوں سے ہم یہ سوچ کر ہی خود سے مخاطب رہے سدا کیا گفتگو کریں گے تماشائیوں سے ہم اب دیں گے کیا کسی کو یہ جھونکے بہار کے مانگیں گے دل کے زخم بھی پروائیوں سے ...

مزید پڑھیے

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے آبگینے تھے کہ پتھر ہو گئے بے گناہی ظلمتوں میں قید تھی داغ پھر کس کے سمندر دھو گئے عمر بھر کاٹیں گے فصلیں خون کی زخم دل میں بیج ایسا بو گئے دیکھ کر انسان کی بیچارگی شام سے پہلے پرندے سو گئے ان گنت یادیں میرے ہم راہ تھیں ہم ہی زریںؔ درمیاں میں کھو ...

مزید پڑھیے

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا وہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہا وہ چاندنی کا مرقع نہیں تھا جگنو تھا چراغ بن کے جلا اور شجر شجر میں رہا کہاوتوں کی طرح وہ بھی شہر معنی تھا بجھا بجھا سا دیا جو کسی کھنڈر میں رہا وہ جس کو کھوج سرابوں میں تھی سمندر کی وہ اپنے دشت دل و جاں کی رہ ...

مزید پڑھیے

آم

آم جو کھائے وہ للچائے جو نہ کھائے وہ پچھتائے بھینی بھینی خوشبو آئے جو سب کے ہی من کو بھائے لنگڑا چوسا اور دسہری کوئی نہیں ہے ان کا بیری سونے جیسی رنگت ان کی ڈالی ڈالی سنگت ان کی ابا جب بازار کو جاتے ٹوکری بھر آموں کی لاتے سارے پھلوں کا آم ہے راجا کچا پکا سب کا کھا جا خوشبو اس کی ...

مزید پڑھیے

جز قربت جاں پردۂ جاں کوئی نہیں تھا

جز قربت جاں پردۂ جاں کوئی نہیں تھا وہ تھا تو وہاں اور جہاں کوئی نہیں تھا تھا ایک خیال اور خیال رخ جاناں وہ واہمۂ وہم و گماں کوئی نہیں تھا اک ساعت صد سال میں ٹھہرا تھا کہیں دل پھر قافلۂ عمر رواں کوئی نہیں تھا تھا کوئی وہاں جو ہے یہاں بھی ہے وہاں بھی جو ہوں میں یہاں ہوں میں وہاں ...

مزید پڑھیے

سب طرح کے حالات کو امکان میں رکھا

سب طرح کے حالات کو امکان میں رکھا ہر لمحہ اسے سوچ میں وجدان میں رکھا ہجرت کی گھڑی ہم نے ترے خط کے علاوہ بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا مجھ کو مری قامت کے مطابق بھی جگہ دی یہ پھول اٹھا کر کبھی گلدان میں رکھا؟ اک عمر گزاری نئے آہنگ سے لیکن اجداد کی اقدار کو بھی دھیان میں ...

مزید پڑھیے

اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا

اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا ہے ترے کرم پر ہی انحصار اس گھر کا ہر کواڑ ڈوبا ہے بے کراں اداسی میں اور ہر دریچہ ہی سوگوار اس گھر کا پھیلتی چلی جائے بیل بدگمانی کی ختم ہی نہیں ہوتا انتشار اس گھر کا اس جہاں میں ہوگا بے عمل نہ ہم جیسا ہم نہ رکھ سکے قائم اعتبار اس گھر کا کس قدر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3813 سے 6203