قومی زبان

ضمیر

روح ناپاک مری قلب بھی ناپاک مرا نفس امارہ بہت ہو گیا بیباک مرا بوجھ میں اپنے ہی ماضی کے دبا جاتا ہوں اپنی ہی آگ میں اب خود ہی جلا جاتا ہوں کس طرف جاؤں کہاں دھوؤں میں اپنا دامن میرے مقتول مرے ساتھ ہیں بے غسل و کفن دیکھتا ہوں شب تاریک میں جب میں تارے نوک نیزہ پہ نظر آتے ہیں کتنے ...

مزید پڑھیے

سفر ناتمام

زندگی کون سی منزل پہ رکی ہے آ کر آگے چلتی بھی نہیں راہ بدلتی بھی نہیں سست رفتار ہے یہ دور عبوری کتنا سخت و بے جان ہے وہ پیکر نوری کتنا چاند اک خواب جو تھا شہر امید تہہ آب جو تھا حسن کے ماتھے کا ننھا ٹیکا پائے آدم کے تلے آتے ہی اترے چہرے کی طرح ہو گیا کتنا پھیکا ہم جنوں کیش و طرح دار ...

مزید پڑھیے

خونی قلعہ

بہت ہی سخت بہت ہی طویل ہے یہ گھڑی اس عہد قہقری کا ہر قدم ہے ایک صدی یہ عہد جس پہ کئی نسلوں کی ہے گرد پڑی یہ پیر زال یہ قلعہ کنار آب رواں بھڑکتے شعلوں کے مانند جس کا ہر گنبد یہ کنگرے ہیں کہ ہیں بھٹیوں کے انگارے جلا کے رکھ دیئے جن کی تپش نے لاکھوں مکاں یہ ہے علامت فسطائیت گراؤ ...

مزید پڑھیے

دہلی

ہماری مجلس شوریٰ کے اونچے اونچے محل نظر جھکائے جمود عمل سے سر بوجھل وہ بے بسی کہ ذرا آگے بڑھ نہیں سکتے کتاب وقت کی تحریر پڑھ نہیں سکتے بھڑک رہے ہیں نگاہوں کے سامنے شعلے زباں نہ منہ میں ہو جس کے وہ کس طرح بولے یہ شہر دلی بہشت نظر جو تھا کل تک بنا ہوا ہے جہنم زمیں سے تا بہ ...

مزید پڑھیے

شیشہ اس کا عجیب ہے خود ہی

شیشہ اس کا عجیب ہے خود ہی وہ ہمارا رقیب ہے خود ہی جان کر ہم نہیں لگاتے دل دل سے ہر بت قریب ہے خود ہی ہم کو حاجت نہیں نقیبوں کی شعر اپنا نقیب ہے خود ہی کوئی ہم کو صلیب کیا دے گا فن ہمارا صلیب ہے خود ہی شاعری کوئی خود نہیں منحوس شعرگو بد نصیب ہے خود ہی ملک کو مال وقف مت جانو قوم ...

مزید پڑھیے

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں ہم کو مستقبل زریں نے پکارا تو نہیں دست و پا شل ہیں کنارے سے لگا بیٹھا ہوں لیکن اس شورش طوفان سے ہارا تو نہیں اس غم دوست نے کیا کچھ نہ ستم ڈھائے مگر غم دوراں کی طرح جان سے مارا تو نہیں دکھ بھرے گیتوں سے معمور ہے کیوں بربط جاں اس میں کچھ گرسنہ ...

مزید پڑھیے

دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے

دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے آبلہ پائی اب کوئی پوچھے ان ذہنی بیماروں سے بات تو جب ہے شعلے نکلیں بربط دل کے تاروں سے شور نہیں نغمے پیدا ہوں تیغوں کی جھنکاروں سے کس نے بسایا تھا اور ان کو کس نے یوں برباد کیا اپنے لہو کی بو آتی ہے ان اجڑے بازاروں سے کیسے گلے ملتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے کاغذ کا بنا ہاتھ میں پتوار لگے ہے آزاد لگے ہے نہ گرفتار لگے ہے دیوانے کو در آہنی دیوار لگے ہے اک لاش ہے لیکن بڑی جاں دار لگے ہے شعلہ سی کوئی چیز سر دار لگے ہے پہچان لو اس کو وہی قاتل ہے ہمارا جس ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار لگے ہے خاموش گراں بار ...

مزید پڑھیے

زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے

زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے نیساں کے چند قطرے گہر ہو کے رہ گئے اہل جنوں وہ کیا ہوئے جن کے بغیر ہم اہل خرد کے دست نگر ہو کے رہ گئے صحرا گئے تو شہر میں اک شور مچ گیا جب لوٹ آئے شہر بدر ہو کے رہ گئے امید کے حبابوں پہ اگتے رہے محل جھونکا سا ایک آیا کھنڈر ہو کے رہ گئے راہوں پہ ...

مزید پڑھیے

فن کار کے کام آئی نہ کچھ دیدہ وری بھی

فن کار کے کام آئی نہ کچھ دیدہ وری بھی کرنا پڑی شہزادوں کو دریوزہ گری بھی اک سلسلۂ دار و رسن پھیلا ہوا ہے منجملہ خطاؤں کے ہے صاحب نظری بھی جن ہاتھوں نے پھاڑے نہ کبھی جیب و گریباں ان ہاتھوں سے ہو سکتی نہیں بخیہ گری بھی ان سے تو بہر طور ہر اک راہزن اچھا جو راہزنی کرتے ہیں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 379 سے 6203