قومی زبان

پھر شام ہوئی

پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواں اک اداسی کا تنتا ہوا سائباں اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں غرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں دفعتاً سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو ...

مزید پڑھیے

کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی ...

مزید پڑھیے

جھلسی سی اک بستی میں

ہاں دیکھا کل ہم نے اس کو دیکھنے کا جسے ارماں تھا وہ جو اپنے شہر سے آگے قریۂ باغ و بہاراں تھا سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میں کیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھا سب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیں سب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں ...

مزید پڑھیے

اس بستی کے اک کوچے میں

اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا اک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانا اس نار میں ایسا روپ نہ تھا جس روپ سے دن کی دھوپ دبے اس شہر میں کیا کیا گوری ہے مہتاب رخے گلنار لبے کچھ بات تھی اس کی باتوں میں کچھ بھید تھے اس کی چتون میں وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں کسی چاہنے ...

مزید پڑھیے

سب مایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے سب مایا ہے اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ ...

مزید پڑھیے

چاند کے تمنائی

شہر دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی جاں گداز تنہائی روح و جاں کو ڈستی ہے روح و جاں میں بستی ہے شہر دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں ...

مزید پڑھیے

کیا دھوکا دینے آؤگی

ہم بنجارے دل والے ہیں اور پینٹھ میں ڈیرے ڈالے ہیں تم دھوکا دینے والی ہو؟ ہم دھوکا کھانے والے ہیں اس میں تو نہیں شرماؤ گی؟ کیا دھوکا دینے آؤگی؟ سب مال نکالو، لے آؤ اے بستی والو لے آؤ یہ تن کا جھوٹا جادو بھی یہ من کی جھوٹی خوشبو بھی یہ تال بناتے آنسو بھی یہ جال بچھاتے گیسو بھی یہ ...

مزید پڑھیے

کچھ دے اسے رخصت کر

کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے ہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہے اس بات پہ کیوں اس کی اتنا بھی حجاب آئے فریاد سے بے بہرہ کشکول سے خالی ہے شاعر ہے تو ادنیٰ ہے، عاشق ہے تو رسوا ہے کس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہے کس شہر کا شحنہ ...

مزید پڑھیے

ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے

ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نے اس شہر کے لوگ بڑے ہی سخی بڑا مان کریں درویشوں کا پر تم سے تو اتنے برہم ہیں کیا آن کے مانگ لیا تم نے کن راہوں سے ہو کر آئی ہو کس گل کا سندیسہ لائی ہو ہم باغ میں خوش خوش بیٹھے تھے ...

مزید پڑھیے

ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں

ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاں ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ ہم سے بھی لوگو پیار کرو تم تو پریشاں ہو بھی سکو گے ہم کو یہاں پہ دوام کہاں سانجھ سمے کچھ تارے نکلے پل بھر چمکے ڈوب گئے امبر امبر ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہ تمام کہاں دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3797 سے 6203