پھر شام ہوئی
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواں اک اداسی کا تنتا ہوا سائباں اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں غرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں دفعتاً سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو ...