قومی زبان

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے چل دیے اٹھ کے سوئے شہر وفا کوئے حبیب پوچھ لینا تھا کسی خاک بسر سے پہلے عشق پہلے بھی کیا ہجر کا غم بھی دیکھا اتنے تڑپے ہیں نہ گھبرائے نہ ترسے پہلے جی بہلتا ہی نہیں اب کوئی ساعت کوئی پل رات ڈھلتی ہی نہیں چار ...

مزید پڑھیے

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینا پلانا عین گنہ ہے جی کا لگانا عین ہوس آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ اے سخیو اے خوش‌ نظرو یک گونہ کرم خیرات کرو نعرہ زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہر نگار کے بیچ خار و ...

مزید پڑھیے

پیت کرنا تو ہم سے نبھانا سجن ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجن

پیت کرنا تو ہم سے نبھانا سجن ہم نے پہلے ہی دن تھا کہا نا سجن تم ہی مجبور ہو ہم ہی مختار ہیں خیر مانا سجن یہ بھی مانا سجن اب جو ہونے کے قصے سبھی ہو چکے تم ہمیں کھو چکے ہم تمہیں کھو چکے آگے دل کی نہ باتوں میں آنا سجن کہ یہ دل ہے سدا کا دوانا سجن یہ بھی سچ ہے نہ کچھ بات جی کی بنی سونی ...

مزید پڑھیے

دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے

دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے یہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جاں ہوتا ہے ہم تیری سکھائی منطق سے اپنے کو تو سمجھا لیتے ہیں اک خار کھٹکتا رہتا ہے سینے میں جو پنہاں ہوتا ہے پھر ان کی گلی میں پہنچے گا پھر سہو کا سجدہ کر لے گا اس دل پہ بھروسا کون کرے ہر روز مسلماں ...

مزید پڑھیے

جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر کبھی ...

مزید پڑھیے

فرض کرو

فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں فرض کرو یہ ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکا

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے آج میلہ لگا ہے اسی شان سے آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں آج چاہوں تو ...

مزید پڑھیے

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرا مہرا یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ ہم نے ایسی بھی کوئی بات نہ ...

مزید پڑھیے

ایک بار کہو تم میری ہو

ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہو جب سورج دھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم ...

مزید پڑھیے

یہ سرائے ہے

یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈو یاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیں ہاں یہی نام تھا کچھ ایسا ہی چہرہ مہرہ یاد پڑتا ہے کہ آیا تھا مسافر کوئی سونے آنگن میں پھرا کرتا تھا تنہا تنہا کتنی گہری تھی نگاہوں کی اداسی اس کی لوگ کہتے تھے کہ ہوگا کوئی آسیب زدہ ہم نے ایسی بھی کوئی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3798 سے 6203