قومی زبان

مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی

مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی کاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتی عاشقی میں جو مزہ ہے تو یہی فرقت ہے لطف کیا تھا جو اگر اس سے جدائی ہوتی گر نہ ہو شمع تو معدوم ہیں پروانے بھی تو نہ ہوتا تو صنم کب یہ خدائی ہوتی غیر سے کرتے ہو ابرو کے اشارے ہر دم کبھی تلوار تو مجھ پر بھی لگائی ...

مزید پڑھیے

مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو

مزہ وصال کا کیا گر فراق یار نہ ہو نہیں ہے نشے کی کچھ قدر اگر خمار نہ ہو نہ روئے تا کوئی عاشق یہ حکم ہے اس کا کہ شمع بھی مری محفل میں اشک بار نہ ہو جو ہچکی آئی تو خوش میں ہوا کہ موت آئی کسی کو یار کا اتنا بھی انتظار نہ ہو ذقن ہے سیب تو عناب ہے لب شیریں نہیں ہے سرو وہ خوش قد جو میوہ ...

مزید پڑھیے

اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا

اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا کھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوا بھاگ کر کب تجھ سے جاں بر کوئی اے قاتل ہوا اڑ چلا گر ہوش اپنا طائر بسمل ہوا اب کہاں نالے کہ اس لیلیٰ کا مسکن دل ہوا تھا جرس جو پیش ازیں وہ ان دنوں محمل ہوا نام نیک اہل حکومت کو کہاں حاصل ہوا خلق میں مشہور اک ...

مزید پڑھیے

وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں

وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں وہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوں نہیں عشق سے زرد زردار میں ہوں اگر ہے وہ یوسف خریدار میں ہوں تمنا ہے ساقی کبھی بزم مے میں وہ سرشار ہو اور ہشیار میں ہوں ہوئی جمع بے دردی دردمندی دل آزار وہ ہے ستم گار میں ہوں وہ کرتا ہے باتیں میں کرتا ہوں ...

مزید پڑھیے

سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں

سب کی سب کیا ہیں شب قدر ہماری راتیں کٹتی ہیں آنکھوں ہی میں ہجر کی ساری راتیں ہائے کیا پیار سے سوتے تھے لپٹ کر اے جان یاد ہر دم مجھے آتی ہیں وہ پیاری راتیں دونوں زلفوں میں ہیں خورشید سے تاباں عارض روز روشن کے برابر ہیں تمہاری راتیں جو گھڑی ہے نظر آتی ہے مجھے ایک پہاڑ ہیں غضب ...

مزید پڑھیے

لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں

لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں غیر جب کہتا ہے اس پر میں بھی مرتا ہوں تب آہ وہ تو کیا مرتا ہے بس غیرت سے مر جاتا ہوں میں آ نکلتا ہے کبھی پر بات وہ کرتا نہیں بولتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ اب جاتا ہوں میں تو وہ ہے آتش کا پرکالہ کہ تیرے ...

مزید پڑھیے

تو نے مہجور کر دیا ہم کو

تو نے مہجور کر دیا ہم کو سخت رنجور کر دیا ہم کو اپنی برق نگاہ سے تم نے شجر طور کر دیا ہم کو دل بنا عاشقی میں خود مختار اور مجبور کر دیا ہم کو ایسی تعریف کی کہ اے واعظ عاشق حور کر دیا ہم کو غم نہیں محتسب جو توڑ کے خم نشہ نے چور کر دیا ہم کو جس قدر ہم سے تم ہوئے نزدیک اس قدر دور کر ...

مزید پڑھیے

کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں

کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں کون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیں جام نرگس میں کہاں شبنم جو نکلے آفتاب یار کے آگے مری آنکھوں میں اک آنسو نہیں یاد گیسو میں ہوا میرا یہ دھجی سا بدن مجھ پہ پھبتی کہتے ہیں موباف ہے گیسو نہیں جسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا دیکھ کر کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا

وہ روئے کتابی تو ہے قرآن ہمارا کہتے ہیں جسے عشق ہے ایمان ہمارا ہاتھوں کی شکایت ہے ہمیں دشت جنوں میں پاؤں میں الجھتا ہے گریبان ہمارا ہر صبح دکھاتا ہے ہمیں جلوہ پری کا بالائے ہوا دار سلیمان ہمارا ہیں مردم غم دیدہ کے دانتوں کی طرح بند مثل دہن ننگ ہے زندان ہمارا ہم خانہ خرابوں ...

مزید پڑھیے

اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ

اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگ اور ہی لایا فراق یار رنگ سرخ رو کر دے شراب آئی بہار ہے خزاں سے زرد اے خمار رنگ ہونٹ اودے سبز خط آنکھیں سیاہ چہرے کا سرخ و سفید اے یار رنگ ہم کو سارے گلشن آفاق میں بس پسند آئے یہی دو چار رنگ غیر سے کھیلی ہے ہولی یار نے ڈالے مجھ پر دیدۂ خوں بار رنگ کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3784 سے 6203