مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی
مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتی کاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتی عاشقی میں جو مزہ ہے تو یہی فرقت ہے لطف کیا تھا جو اگر اس سے جدائی ہوتی گر نہ ہو شمع تو معدوم ہیں پروانے بھی تو نہ ہوتا تو صنم کب یہ خدائی ہوتی غیر سے کرتے ہو ابرو کے اشارے ہر دم کبھی تلوار تو مجھ پر بھی لگائی ...