قومی زبان

مے سے روشن رہے ایاغ اپنا

مے سے روشن رہے ایاغ اپنا گل نہ ہو ساقیا چراغ اپنا ہجر میں تر ہو کیا دماغ اپنا خشک لب آپ ہے ایاغ اپنا نکہت زلف جب سے آئی ہے نہیں ملتا ہمیں دماغ اپنا کس کی ہم جستجو میں نکلے تھے نہیں پاتے کہیں سراغ اپنا کیا ہے مذکور مرہم کافور جب نمک سودا ہو نہ داغ اپنا ہے شب ہجر وادئ وحشت دیدۂ ...

مزید پڑھیے

دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں

دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں آگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیں تازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات لوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں بھا گئی کون سی وہ بات بتوں کی ورنہ نہ کمر رکھتے ہیں کافر نہ دہاں رکھتے ہیں مثل پروانہ نہیں کچھ زر و مال اپنے پاس ہم فقط تم پہ فدا کرنے کو ...

مزید پڑھیے

رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں

رفعت کبھی کسی کی گوارا یہاں نہیں جس سر زمیں کے ہم ہیں وہاں آسماں نہیں دو روز ایک وضع پہ رنگ جہاں نہیں وہ کون سا چمن ہے کہ جس کو خزاں نہیں عبرت کی جا ہے لاکھوں ہی طفل و جواں نہیں پیری میں بھی خیال اجل کا یہاں نہیں دشمن اگر وہ دوست ہوا ہے تو کیا عجب یاں اعتماد دوستیٔ جسم و جاں ...

مزید پڑھیے

چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو

چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو صدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہو کشتۂ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو عضو سے عضو قیامت میں جدا پیدا ہو ہم ہیں بیمار محبت یہ دعا مانگتے ہیں مثل اکسیر نہ دنیا میں دوا پیدا ہو کہہ رہا ہے جرس قلب بآواز بلند گم ہو رہبر تو ابھی راہ خدا پیدا ہو کس کو ...

مزید پڑھیے

صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں

صنم کوچہ ترا ہے اور میں ہوں یہ زندان دغا ہے اور میں ہوں یہی کہتا ہے جلوہ میرے بت کا کہ اک ذات خدا ہے اور میں ہوں ادھر آنے میں ہے کس سے تجھے شرم فقط اک غم ترا ہے اور میں ہوں کرے جو ہر قدم پر ایک نالہ زمانے میں درا ہے اور میں ہوں تری دیوار سے آتی ہے آواز کہ اک بال ہما ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا

ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کا مشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کا عشق میں رشک ہمیشہ سے چلا آتا ہے دیکھو قابیل نے کیا حال کیا بھائی کا جام سائل کی طرح ہیں مری آنکھیں در در جب سے عاشق کسی کافر شیدائی کا عشق کامل جو ہوا ننگ کہاں عار کہاں دھیان بدمست کو رہتا نہیں رسوائی کا ہجر میں ...

مزید پڑھیے

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا کسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے کہ نور صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا چمکنا برق کا لازم پڑا ہے ابر باراں میں تصور ...

مزید پڑھیے

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا جس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدا مس کے زر ہونے سے بہتر ہے کمال انساں خاکساری ہے جدا اور ہے اکسیر جدا جائے دنداں لب سوفار ہوئے اے قاتل دہن زخم سے ہوگا نہ ترا تیر جدا مرض عشق میں پیٹھ اپنی یہ بستر سے لگی نہ کبھی صفحہ سے جس شکل ہو تصویر جدا اے ...

مزید پڑھیے

جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں

جب سے کہ بتوں سے آشنا ہوں بیگانہ خدائی سے ہوا ہوں کیوں کر کہوں عارف خدا ہوں آگاہ نہیں کہ آپ کیا ہوں جب ہجر میں باغ کو گیا ہوں میں آتش گل میں جل بجھا ہوں فرقت میں جو سر پٹک رہا ہوں مشغول نماز کبریا ہوں منہ زرد ہے تنکے چن رہا ہوں اے وحشت کیا میں کہربا ہوں بیگانہ ہوں کیوں کر آشنا ...

مزید پڑھیے

کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار کج ایسی نہ تھی آگے مرے یار کی رفتار سیکھا ہے مگر چرخ ستم گار کی رفتار سر گرتے ہیں کٹ کٹ کے وہ رکھتا ہے جہاں پاؤں سیکھی ہے مگر یار نے تلوار کی رفتار گردش ہے تری نرگس بیمار کو دن رات دیکھی نہیں ایسی کسی بیمار کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3785 سے 6203