مے سے روشن رہے ایاغ اپنا
مے سے روشن رہے ایاغ اپنا گل نہ ہو ساقیا چراغ اپنا ہجر میں تر ہو کیا دماغ اپنا خشک لب آپ ہے ایاغ اپنا نکہت زلف جب سے آئی ہے نہیں ملتا ہمیں دماغ اپنا کس کی ہم جستجو میں نکلے تھے نہیں پاتے کہیں سراغ اپنا کیا ہے مذکور مرہم کافور جب نمک سودا ہو نہ داغ اپنا ہے شب ہجر وادئ وحشت دیدۂ ...