قومی زبان

جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا

جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا بجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارا ایسا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا گم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا اول تو نہ قاصد کو رہے کوئے صنم یاد پہنچے تو فراموش ہو پیغام ہمارا ہم گو کہ ہیں دیوانے مگر غرق یم اشک یونان کے مانند ہوا نام ہمارا مے پائی نہ پینے ...

مزید پڑھیے

صاف قاصد کو واں جواب ملا

صاف قاصد کو واں جواب ملا میرے خط کا یہی جواب ملا آج ذرے کو آفتاب ملا کہ مجھے ساغر شراب ملا کہتے ہیں صبح دم وہ دیکھ کے منہ جائے آئینہ آفتاب ملا بے ثبات اپنی بزم عیش جو ہے شیشۂ مے کی جا حباب ملا بخت نے پائی جب کہ بیداری میرے پائے طلب کو خواب ملا ہو گیا دل جو آبلہ ساقی سمجھے ہم ...

مزید پڑھیے

جو مزے آج ترے غم کے عذابوں میں ملے

جو مزے آج ترے غم کے عذابوں میں ملے ایسی لذت کہاں ساقی کی شرابوں میں ملے ساری دنیا سے نہیں ان کو ہے پردہ لیکن وہ ملے جب بھی ملے مجھ کو نقابوں میں ملے تیری خوشبو سے معطر ہے زمانہ سارا کیسے ممکن ہے وہ خوشبو بھی گلابوں میں ملے زندگانی میں نصیحت نہیں کام آتی ہے درس اخلاق فقط مجھ کو ...

مزید پڑھیے

قد بڑھانے کے لئے بونوں کی بستی میں چلو

قد بڑھانے کے لئے بونوں کی بستی میں چلو یہ نہیں ممکن تو پھر بچوں کی بستی میں چلو صبر کی چادر کو اوڑھے خواب گاہوں میں رہو سچ کی دنیا چھوڑ کر وعدوں کی بستی میں چلو جب بھی تنہائی کے ہنگاموں سے دم گھٹنے لگے بھیڑ میں گم ہو کے انجانوں کی بستی میں چلو ڈال رکھی ہے خرد مندوں نے چہروں پر ...

مزید پڑھیے

گیسو و رخسار کی باتیں کریں

گیسو و رخسار کی باتیں کریں آؤ مل کر پیار کی باتیں کریں بے وفائی جس کا ہے طرز عمل بس اسی دل دار کی باتیں کریں آج کل پیدل سفر دشوار ہے خوب صورت کار کی باتیں کریں لے کے نکلیں اک موبائل ہاتھ میں اب تو بس بے تار کی باتیں کریں جب سمجھ میں کچھ نہ آئے آپ کو بیٹھ کر بیکار کی باتیں ...

مزید پڑھیے

آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے

آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے کو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھے کام عاشق کو کسی کی عیب بینی سے نہیں حسن بینی کو خدا نے دی ہے بینائی مجھے جور سہتا ہوں بتوں کے ناتوانی کے سبب دل اٹھا لوں اس قدر کب ہے توانائی مجھے جس طرح آتا ہے پیری میں جوانی کا خیال وصل کی شب یاد روز ہجر ...

مزید پڑھیے

ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ

ہائے لایا نہ کوئی قاصد دلبر کاغذ ہو گیا غم سے ہمارا تن لاغر کاغذ نامۂ یار کے لکھنے کو مجھے ارزاں ہے تول دے گر کوئی سونے کے برابر کاغذ یوں لفافے میں ہمارا ہے کلام شیریں جس طرح باندھتے ہیں قند کے اوپر کاغذ ناتوانی سے نہیں ہے مجھے ممکن حرکت میں ہوں حرفوں کی طرح میرا ہے بستر ...

مزید پڑھیے

ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں

ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں خیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیں وہ بے نقاب ہوا ہے تو یہ تماشا ہے دو چار ہونے کی آنکھوں میں اپنی تاب نہیں یہ مجھ کو اس کے تغافل سے ہے یقین کہ ہائے جواب نامے سو اے نامے کا جواب نہیں سما رہا ہے یہاں تک پری رخوں کا جمال ہماری آنکھوں میں خالی مقام خواب ...

مزید پڑھیے

ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا

ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا روئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کا وصل کیا ہم خاکساروں کو ہو اس دل خواہ کا خاک میں آلودہ ہونا کب ہے ممکن ماہ کا نور افشاں جب سے ہے دل میں خیال اس ماہ کا طور کا شعلہ دھواں ہے میری شمع آہ کا قامت موزوں نظر آئے مجھے جائے الف تھا شروع عاشقی دن ...

مزید پڑھیے

گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں

گو یہ غم ہے کہ وہ حبیب نہیں پر خوشی ہے کوئی رقیب نہیں کیوں نہ ہوں طفل اشک آوارہ کہ معلم نہیں ادیب نہیں کل تصور میں آئی جو شب گور شب فرقت سے وہ مہیب نہیں ہیں سواری کے ساتھ فریادی کوئی اور آپ کا نقیب نہیں مدتوں سے ہوں جانتا ہوں وطن دشت غربت میں میں غریب نہیں تجھ سے اے دل خدا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3783 سے 6203