جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا بجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارا ایسا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا گم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا اول تو نہ قاصد کو رہے کوئے صنم یاد پہنچے تو فراموش ہو پیغام ہمارا ہم گو کہ ہیں دیوانے مگر غرق یم اشک یونان کے مانند ہوا نام ہمارا مے پائی نہ پینے ...