قومی زبان

سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو

سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہو پھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہو مضموں وہ کیا جو لذت غم سے بھرا نہ ہو شاعر وہ کیا کلام میں جس کے مزا نہ ہو بد نام میرے واسطے وہ دل ربا نہ ہو یارب عدو کے ہاتھ سے میری قضا نہ ہو جب اپنی کوئی بات بغیر از دعا نہ ہو دشمن کے کہنے سننے سے ناداں خفا نہ ...

مزید پڑھیے

غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا

غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا خوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیا تیغ ابرو سے دل عاشق کو ملتی کیا پناہ جو چڑھا منہ پر اجل کے بے گماں مارا گیا منزل معشوق تک پہنچا سلامت کب کوئی رہزنوں سے کارواں کا کارواں مارا گیا دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری دوستی ...

مزید پڑھیے

جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے

جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے مگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہے عدو کے آتے ہی رونق سدھاری تیری محفل کی معاذ اللہ انساں کا قدم ایسا بھی ہوتا ہے رکاوٹ ہے خلش ہے چھیڑ ہے ایذا پہ ایذا ہے ستم اہل وفا پر دم بدم ایسا بھی ہوتا ہے حسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں ...

مزید پڑھیے

بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک

بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک نہ کی اس نے مری جانب نظر تک عبث صیاد کو ہے بد گمانی نہیں بازو میں اپنے ایک پر تک خبر آئی مریض درد و غم کی کہیں پہنچے خبر اس بے خبر تک نزاکت سے لگی بل کرنے کیا کیا ابھی گیسو نہ پہنچے تھے کمر تک جئے جاتے ہیں شکل شمع سوزاں نہ کچھ باقی رہیں گے ہم سحر تک اگر ...

مزید پڑھیے

شہر میں اولے پڑے ہیں سر سلامت ہے کہاں

شہر میں اولے پڑے ہیں سر سلامت ہے کہاں اس قدر ہے تیز آندھی گھر سلامت ہے کہاں رات نے ایسی سیاہی اب بکھیری چار سو آنکھ والوں کے لئے منظر سلامت ہے کہاں آپ کہتے ہیں چھپا لوں اپنی عریانی مگر جسم سے لپٹی ہوئی چادر سلامت ہے کہاں قلقل مینا سے اپنی پیاس تو بجھتی نہیں چور سب شیشے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا

کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا سمندروں پہ جو چلتا رہا ہے بے مقصد کہاں ہیں پاؤں کے نقش و نشاں نہ سمجھے گا اسے جنون ہے لفظوں سے کھیلنے کا بہت ہماری سادہ سی لیکن زباں نہ سمجھے گا یہ سب ہیں اہل سیاست انہی کی سازش ہے یہی ہے سچ جسے سارا جہاں نہ ...

مزید پڑھیے

گرد و غبار دھوپ کے آنچل پہ چھا گئے

گرد و غبار دھوپ کے آنچل پہ چھا گئے اور گھن گرج کے شور بھی بادل پہ چھا گئے اب تو کوئی کنول نہیں کھلتا ہے جھیل میں اب کانٹے دار برگ ہی جل تھل پہ چھا گئے وہ سو نہیں سکے گا کسی پل سکون سے جب وسوسے بھی آنکھوں کے کاجل پہ چھا گئے بجلی ستارے چاند شفق اور دھوپ چھاؤں کیسے زمیں کے برہنہ ...

مزید پڑھیے

جانے والے اتنا بتا دو پھر تم کب تک آؤ گے

جانے والے اتنا بتا دو پھر تم کب تک آؤ گے پھول بھی اب مرجھانے لگے ہیں، بولو کب اپناؤ گے دل کے اس البم میں تو اب بس تصویر تمہاری ہے من مندر کے دوار پہ اپنے تم بھی کچھ لٹکاؤ گے رات کی تنہائی میں جب بھی یاد ہماری آئے گی نیند تمہاری اڑ جائے گی اور بہت گھبراؤگے پیروں کی زنجیریں کاٹو ...

مزید پڑھیے

ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید

ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید بلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفید آنکھیں خوش چشموں کی تجھ پر ہوئیں اے یار سفید جس طرح ضعف سے ہو چہرۂ بیمار سفید ہو گیا ضعف سے میرا بدن زار سفید نظر آتا ہے صنم صورت زنار سفید ہے فقط عالم بالا سے مدد مستوں کی کون جز ماہ کرے خانۂ خمار ...

مزید پڑھیے

مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں

مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں مے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیں دل میں خوش آئی ہیں صحرا کی ببولیں پر خار اب کسی سرو گل اندام سے کچھ کام نہیں اپنے آرام سے ہوں دشت جنوں میں تنہا کسی محبوب دل آرام سے کچھ کام نہیں خانہ برباد ہوں صحرا میں بگولوں کی طرح سقف و دیوار و در و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3782 سے 6203