قومی زبان

شیخ کے حال پر تأسف ہے

شیخ کے حال پر تأسف ہے شکل روزی کی اک تصوف ہے جس کی اوقات ہو تصوف پر اس کے اس روزگار پر تف ہے جن کو دعویٰ ہے حق شناسی کا ان سے بندے کو بھی تعارف ہے نہ تو عرفاں کے ان میں ہیں انداز معرفت سے نہ کچھ تشرف ہے کیسی تعمیل حکم خالق کی کیسا اسلام صد تأسف ہے کون سے امر دیں کو کوئی کہے دین ...

مزید پڑھیے

قید تن سے روح ہے ناشاد کیا

قید تن سے روح ہے ناشاد کیا چند روزہ عمر کی میعاد کیا میری ایذا سے عدو ہو شاد کیا تجھ پہ تکیہ او ستم ایجاد کیا ان کی خاطر جائیں بزم غیر میں آرزوئے جنت شداد کیا پا رہا ہے دل مصیبت کے مزے آئے لب پر شکوۂ بیداد کیا دل میں جو آئے اسے کہہ ڈالیے آپ کی باتیں کریں گے یاد کیا دوستو آئے ...

مزید پڑھیے

موسم سوکھا سوکھا سا تھا لیکن یہ کیا بات ہوئی

موسم سوکھا سوکھا سا تھا لیکن یہ کیا بات ہوئی کیول اس کے کمرے میں ہی رات گئے برسات ہوئی میں نے سمجھا، اس نے سمجھا، بھیڑ میں بھی خاموشی تھی دیکھنے والے کچھ بھی نہ سمجھے لیکن پھر بھی بات ہوئی بن مانگے مل جائے موتی تو اس کو تقدیر کہو دامن پھیلا کر دنیا مل جائے تو خیرات ہوئی سنکٹ کے ...

مزید پڑھیے

تمہارے جاتے ہی ہر چشم تر کو دیکھتے ہیں

تمہارے جاتے ہی ہر چشم تر کو دیکھتے ہیں ہے آنسوؤں کا سمندر جدھر کو دیکھتے ہیں فرازؔ ہو گئے رخصت جہان فانی سے اداس اداس سخن کے سفر کو دیکھتے ہیں کہاں وہ عشق جواں کی ٹھہر گئیں کرنیں رکی رکی ہوئی باد سحر کو دیکھتے ہیں سنا ہے فیضؔ سے آگے نکل گئے تھے فرازؔ غزل کے سوز دروں کے اثر کو ...

مزید پڑھیے

ٹمٹماتا ہوا مندر کا دیا ہو جیسے

ٹمٹماتا ہوا مندر کا دیا ہو جیسے تیری آنکھوں میں کوئی خواب چھپا ہو جیسے پھیر لیں تم نے نگاہیں تو یہ محسوس ہوا مجھ سے روٹھی ہوئی تاثیر دعا ہو جیسے گونجتی ہے مرے کانوں میں یوں آواز تری کوہ و صحرا میں اذانوں کی صدا ہو جیسے اپنی نظریں نہ جھکانا کہ گماں ہوتا ہے سامنے سر پہ کھڑی میری ...

مزید پڑھیے

سورج کی میزان لئے ہم، وہ تھے برف کی باٹ لئے

سورج کی میزان لئے ہم، وہ تھے برف کی باٹ لئے اس حالت میں ہم دونوں نے اپنے جیون کاٹ لئے ایک ہی گھر میں رہتے تھے ہم لیکن دونوں انجانے تھے جب اس کا احساس ہوا تو اپنے رستے پاٹ لئے کوئی گاہک مل جاتا تو اچھی قیمت مل جاتی بیچ خریداروں کے تھے ہم اپنے ہنر کی باٹ لئے راجاؤں کا دور گیا اور ...

مزید پڑھیے

راکھی بندھن

زندگی کے کئی معیار ہیں ورق ورق اک رخ احساس کو فطری اور مصنوعی سطح پر بانٹنا اپنے اور پرائے کو دو دائروں میں تقسیم کرنا یا بارود کے دھماکوں میں زمین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا زندگی برائے زندگی کو ماننے والے وقت کا کہرا چھٹتے ہی آستھا کے عکس پھیلا دیتے ہیں پاگل خیال کی شدت گھٹ جاتی ہے اس ...

مزید پڑھیے

کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا

کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کا تو پوچھ مرے دل سے مزہ بے خبری کا سودا جو گل و لالہ کو ہے جیب دری کا ادنیٰ یہ شگوفہ ہے نسیم سحری کا کس نے لب بام آ کے دکھایا رخ روشن خورشید میں ہے رنگ چراغ سحری کا اپنی یہ غزل ہے کہ پرستان سخن ہے پرواز مضامیں میں ہے انداز پری کا کچھ کم نہیں نازک مرے ...

مزید پڑھیے

کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرف

کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرف لازم نظر ہے گلشن ایجاد کی طرف پائے جو تیرے گوشۂ دستار کی ہوا قمری اڑی نہ طرۂ شمشاد کی طرف بے اصل اے فلک نظر آتا ہے تو مجھے کرتا ہوں غور جب تری بنیاد کی طرف گلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ گلچیں و باغباں بھی ہیں صیاد کی طرف مظلوم ہوں مگر نہیں ...

مزید پڑھیے

صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع

صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع صاف میرے سوز غم کا رنگ دکھلاتی ہے شمع جس طرح کالے کے من کے روبرو گل ہو چراغ دیکھ کر تعویذ زلف یار بجھ جاتی ہے شمع صرف پروانہ ادب سے دم بخود رہتا نہیں تیرے رعب حسن سے محفل میں تھراتی ہے شمع گھیر لیتے ہیں تجھے پروانے اس کو چھوڑ کر جس میں تو ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3781 سے 6203