پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے دیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے
پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے دیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے
مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سوا خاموش لہو کا گھونٹ پینے کے سوا کھلتے ہیں جبھی جوہر تسلیم و رضا جب کوئی سپر ہی نہ ہو سینے کے سوا
چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شور ایسوں کو کہے گا کون میدان کا چور شاعر ہیں یا مشاعروں کے ٹہیے سن پائی کوئی طرح لگانے لگے زور
دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑو یا جیتے ہی جی مردوں سے ناتا جوڑو کیوں ٹھوکریں کھانے کو پڑے ہو بے کار بڑھنا ہے بڑھو نہیں تو رستہ چھوڑو
بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزے ہیں رنج کے دم قدم سے راحت کے مزے دوزخ کی ہوا تو پہلے کھا لو صاحب کیا ڈھونڈتے ہو ابھی سے جنت کے مزے
واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دید اک طرفہ طلسم دید جس کی نہ شنید منزل کی دھن میں جھومتا جاتا ہوں پیچھے تو اجل ہے آگے آگے امید
کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے کوئی ہمت ہی ہارتا جاتا ہے کوئی تہہ کو سدھارتا جاتا ہے دریا ہے کہ موجیں مارتا جاتا ہے
منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلوم جب تک نہ ہو گمراہ نہ آنا معلوم کھو لیتا ہے انسان تو کچھ پاتا ہے کھویا ہی نہیں تو نے تو پانا معلوم
موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والے طوفان بلا سے نہیں ڈرنے والے کچھ بس نہ چلا تو جان پر کھیل گئے کیا چال چلے ہیں ڈوب مرنے والے
قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہار چھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہار کوئی تو جرعہ کش جام ارغوانی ہو کسی کو ہجر کے غم میں لہو رلائے بہار ہوا میں آج کل اک دھیمی دھیمی وحشت ہے اسی زمانے سے شاید ہے ابتدائے بہار نسیم صحن چمن میں پچھاڑیں کھاتی ہے تو دل کو اور بھی تڑپاتی ہے ادائے ...