قومی زبان

میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا

میرے اندر وہ میرے سوا کون تھا میں تو تھا ہی مگر دوسرا کون تھا لوگ بھی کچھ تعارف کراتے رہے مجھ کو پہلے ہی معلوم تھا کون تھا لوگ اندازے ہی سب لگاتے رہے وہ جبیں کس کی تھی نقش پا کون تھا مجھ سے مل کر ہی اندازہ ہوگا کوئی وہ الگ کون تھا وہ جدا کون تھا کوئی جس پر نہ تھا موسموں کا ...

مزید پڑھیے

میں نے کب دعویٰ کیا تھا سر بسر باقی ہوں میں

میں نے کب دعویٰ کیا تھا سر بسر باقی ہوں میں پیش خدمت ہوں تمہارے جس قدر باقی ہوں میں میں بہت سا جیسے ضائع ہو چکا ہوں جا بہ جا ہاتھ سے محسوس کرتا ہوں کدھر باقی ہوں میں ڈھونڈتے ہیں اب جہاں میرا نشاں تک بھی نہیں اس طرف بھی دیکھ لینا تھا جدھر باقی ہوں میں میری تفصیلات میں جانے کا ...

مزید پڑھیے

یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھا

یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھا اس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھا آساں تھا بہت اس کے لیے حرف مروت اور مرحلہ اپنے لیے مشکل بھی وہی تھا تعبیر تھی اپنی بھی وہی خواب سفر کی افسانۂ محرومی منزل بھی وہی تھا اک ہاتھ میں تلوار تھی اک ہاتھ میں کشکول ظالم تو وہ تھا ہی مرا سائل بھی ...

مزید پڑھیے

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے جتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھے روبرو کر کے کبھی اپنے مہکتے سرخ ہونٹ ایک دو پل کے لیے گلدان کر دے گا مجھے روح پھونکے گا محبت کی مرے پیکر میں وہ پھر وہ اپنے سامنے بے جان کر دے گا مجھے خواہشوں کا خوں بہائے گا سر بازار شوق اور مکمل بے ...

مزید پڑھیے

کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میں

کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میں ایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میں میری سورج سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے سوکھنے ڈال دیا جاؤں جو دھویا ہوا میں مجھے باہر نہیں سامان کے اندر ڈھونڈو مل بھی سکتا ہوں کسی شے میں سمویا ہوا میں بازیابی کی توقع ہی کسی کو نہیں اب اپنی دنیا میں ہوں اس ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں کس طرح کی ہیں اور در کیسا ہے وہ

کھڑکیاں کس طرح کی ہیں اور در کیسا ہے وہ سوچتا ہوں جس میں وہ رہتا ہے گھر کیسا ہے وہ کیسی وہ آب و ہوا ہے جس میں وہ لیتا ہے سانس آتا جاتا ہے وہ جس پر رہ گزر کیسا ہے وہ کون سی رنگت کے ہیں اس کے زمین و آسماں چھاؤں ہے جس کی یہاں تک بھی شجر کیسا ہے وہ اک نظر میں ہی نظر آ جائے گا وہ سر ...

مزید پڑھیے

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پر کب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا چمکتے چاند بھی تھے شہر شب کے ایواں میں نگار غم سا مگر کوئی شمع رو نہ ملا انہی کی رمز چلی ہے گلی گلی میں یہاں جنہیں ادھر سے کبھی اذن گفتگو نہ ...

مزید پڑھیے

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا

رخ زیبا ادھر نہیں کرتا چاہتا ہے مگر نہیں کرتا سوچتا ہے مگر سمجھتا نہیں دیکھتا ہے نظر نہیں کرتا بند ہے اس کا در اگر مجھ پر کیوں مجھے در بدر نہیں کرتا حرف انکار اور اتنا طویل بات کو مختصر نہیں کرتا نہ کرے شہر میں وہ ہے تو سہی مہربانی اگر نہیں کرتا حسن اس کا اسی مقام پہ ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ایک ہی بار نہیں ہے وہ دوبارہ کم ہے

ایک ہی بار نہیں ہے وہ دوبارہ کم ہے میں وہ دریا ہوں جسے اپنا کنارہ کم ہے وہی تکرار ہے اور ایک وہی یکسانی اس شب و روز میں اب اپنا گزارہ کم ہے میرے دن رات میں کرنا نہیں اب اس کو شمار حصۂ عمر کوئی میں نے گزارا کم ہے میں زیادہ ہوں بہت اس کے لیے اب تک بھی اور میرے لیے وہ سارے کا سارا کم ...

مزید پڑھیے

میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا

میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا میرے بازو میں ذرا پیار سے بازو دینا آرزو چاند کی ہے ظرف سے بڑھ کر لیکن تیری فیاضی کی توہین ہے جگنو دینا ہر قدم مجھ کو چراغوں کی ضرورت ہوگی آپ تو زاد سفر میں مجھے آنسو دینا صبر تعمیر کی بنیاد ہے ربا میرے مجھ کو بپھرے ہوئے جذبات پہ قابو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 316 سے 6203