نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہے
نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہے دل برباد کو اس طرح سے آباد رکھا ہے جھمیلے اور بھی سلجھانے والے ہیں کئی پہلے اور اس کے وصل کی خواہش کو سب سے بعد رکھا ہے رکا رہتا ہے چاروں سمت اشک و آہ کا موسم رواں ہر لحظہ کاروبار ابر و باد رکھا ہے پھر اس کی کامیابی کا کوئی امکان ہی کیا ...