قومی زبان

نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہے

نہ اس کو بھول پائے ہیں نہ ہم نے یاد رکھا ہے دل برباد کو اس طرح سے آباد رکھا ہے جھمیلے اور بھی سلجھانے والے ہیں کئی پہلے اور اس کے وصل کی خواہش کو سب سے بعد رکھا ہے رکا رہتا ہے چاروں سمت اشک و آہ کا موسم رواں ہر لحظہ کاروبار ابر و باد رکھا ہے پھر اس کی کامیابی کا کوئی امکان ہی کیا ...

مزید پڑھیے

بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیا

بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیا وہ محبت جسے برباد بھی خود میں نے کیا نوچ کر پھینک دیے آپ ہی خواب آنکھوں سے اس دبی شاد کو ناشاد بھی خود میں نے کیا جال پھیلائے تھے جس کے لیے چاروں جانب اس گرفتار کو آزاد بھی خود میں نے کیا کام تیرا تھا مگر مارے مروت کے اسے تجھ سے پہلے بھی ...

مزید پڑھیے

دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوں

دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوں اس سے ملے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوں اس کی بے توفیق محبت کے جنگل میں آدھا گم ہو کر بھی آدھا رہ سکتا ہوں کیسا رہتا ہوں مت پوچھو شہر میں اس کے ویسا ہی رہتا ہوں جیسا رہ سکتا ہوں تنہا رہنے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تنہا رہ سکتا ...

مزید پڑھیے

جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوں

جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوں میں قرض دوسروں کا ادا کرنے آیا ہوں اک تازہ تر فتور مرے سر میں اور ہے جو کر چکا ہوں اس سے سوا کرنے آیا ہوں خود اک سوال ہے مرا آنا ہی اس طرف اب کیا بتایئے کہ میں کیا کرنے آیا ہوں کہنی ہے دوسروں سے الگ میں نے کوئی بات میں کام کوئی سب سے جدا کرنے آیا ...

مزید پڑھیے

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ

آگ کا رشتہ نکل آئے کوئی پانی کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہوں ایسی ہی خوش امکانی کے ساتھ تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیں جو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ بات ہے کچھ زندہ رہ جانا بھی اپنا آج تک لہر تھی آسودگی کی بھی پریشانی کے ساتھ چل رہا ہے کام سارا خوب مل جل کر یہاں کفر بھی ...

مزید پڑھیے

ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھے

ابھی تو کرنا پڑے گا سفر دوبارہ مجھے ابھی کریں نہیں آرام کا اشارہ مجھے لہو میں آئے گا طوفان تند رات بہ رات کرے گی موج بلا خیز پارہ پارہ مجھے بجھا نہیں مرے اندر کا آفتاب ابھی جلا کے خاک کرے گا یہی شرارہ مجھے اتار پھینکتا میں بھی یہ تار تار بدن اسیر خاک ہوں کرنا پڑا گزارہ ...

مزید پڑھیے

بہت سلجھی ہوئی باتوں کو بھی الجھائے رکھتے ہیں

بہت سلجھی ہوئی باتوں کو بھی الجھائے رکھتے ہیں جو ہے کام آج کا کل تک اسے لٹکائے رکھتے ہیں تغافل سا روا رکھتے ہیں اس کے سامنے کیا کیا مگر اندر ہی اندر طبع کو للچائے رکھتے ہیں ہماری جستجو سے دور تر ہے منزل معنی اسی کو کھوئے رکھنا ہے جسے ہم پائے رکھتے ہیں ہماری آرزو اپنی سمجھ میں ...

مزید پڑھیے

پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہے

پائے ہوئے اس وقت کو کھونا ہی بہت ہے نیند آئے تو اس حال میں سونا ہی بہت ہے اتنی بھی فراغت ہے یہاں کس کو میسر یہ ایک طرف بیٹھ کے رونا ہی بہت ہے تجھ سے کوئی فی الحال طلب ہے نہ تمنا اس شہر میں جیسے ترا ہونا ہی بہت ہے ہم اوڑھ بھی لیتے ہیں اسے وقت ضرورت ہم کو یہ محبت کا بچھونا ہی بہت ...

مزید پڑھیے

چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیا

چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیا یہ فرق بھی ترے انکار سے نکل آیا پلٹ پڑا جو میں سر پھوڑ کر محبت میں تو راستہ اسی دیوار سے نکل آیا مجھے خریدنا کچھ بھی نہ تھا اسی خاطر میں خود کو بیچ کے بازار سے نکل آیا ابھی تو اپنے کھنڈر ہی کی سیر تھی باقی یہ تو کہاں مرے آثار سے نکل آیا بہت سے اور ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ ایڑی رگڑ کے پانی نکالتا ہوں

زمیں پہ ایڑی رگڑ کے پانی نکالتا ہوں میں تشنگی کے نئے معانی نکالتا ہوں وہی بر آمد کروں گا جو چیز کام کی ہے زباں کے باطن سے بے زبانی نکالتا ہوں فلک پہ لکھتا ہوں خاک خوابیدہ کے مناظر زمین سے رنگ آسمانی نکالتا ہوں کبھی کبوتر کی طرح لگتا ہے ابر مجھ کو کبھی ہوا سے کوئی کہانی نکالتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 315 سے 6203