نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیا
نہ گماں رہنے دیا ہے نہ یقیں رہنے دیا راستہ کوئی کھلا ہم نے نہیں رہنے دیا اس نے ٹکڑوں میں بکھیرا ہوا تھا مجھ کو جہاں جا اٹھایا ہے کہیں سے تو کہیں رہنے دیا سج رہے تھے یہ شب و روز کچھ ایسے تجھ سے ہم کو دنیا ہی پسند آ گئی دیں رہنے دیا خود تو باغی ہوئے ہم تجھ سے مگر ساتھ ہی ساتھ دل ...