قومی زبان

جس جگہ رہنا سمندر رہنا

جس جگہ رہنا سمندر رہنا اور پیاسوں کو میسر رہنا پاؤں چادر سے نہ باہر نکلے اپنی اوقات کے اندر رہنا گھر سے محروم نہ کر دے تم کو یہ شب و روز کا باہر رہنا اپنے پیروں پہ کھڑے ہو جاؤ کب تلک بوجھ کسی پر رہنا تم کو دعویٰ ہے دلیری کا اگر ناتواں لوگ سے دب کر رہنا سب کو ہوتی ہے نشیمن کی ...

مزید پڑھیے

اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہے

اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہے اندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہے ہمارے پاس کوئی دھن نہیں ہے بہت آرام ہے الجھن نہیں ہے مرے برتن میں ہے محنت کی روٹی کسی کی دیگ کی کھرچن نہیں ہے مری پوشاک پر کیوں ہنس رہا ہے یہ اپنی ہے تری اترن نہیں ہے غریبوں کے لئے اب بھی جہاں میں کوئی منزل کوئی مسکن ...

مزید پڑھیے

زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہو

زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہو سرد آنکھوں میں کوئی خواہش ناپاک تو ہو ہم بھی روشن ہوں اتاریں یہ گناہوں کا لباس تو برستے ہوئے پانی کی طرح پاک تو ہو منجمد خون رگوں کا ہے اسے پی جائیں رات کا زخم سیہ رنگ جگر چاک تو ہو جسم خاکی سے بھی تنویر کا رشتہ ہے ضرور سرخ شعلوں سے لپٹ جا خس و ...

مزید پڑھیے

شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرے

شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرے پتھر کو جو موم بنائے آہن آب کرے اس بادل کی آس لگائے بیٹھے ہیں سب لوگ دل کی کھیتی چھوڑ کے جو جنگل سیراب کرے دریا دریا طوفاں اپنا کر جاتا ہے کام ساحل زد میں آ جائے تو کیا گرداب کرے میری بستی میں رہتے ہیں کچھ فرعون صفت اس کی مرضی زندہ رکھے یا غرقاب ...

مزید پڑھیے

اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہے

اب درد بے دیار ہے اور جگ ہنسائی ہے اس عشق نے بھی کیسی جواں موت پائی ہے بادل ہیں دل کے دل کوئی روزن کہیں نہیں اب چھاؤنی غموں نے فلک پر بھی چھائی ہے رخصت کے بعد تیرے سراپے سے ماورا یہ کون سی ادا ہے جو اب یاد آئی ہے آئی جو سر پہ دھوپ لگے خیمۂ خیال تم ہو جبھی تو وقت کو یوں نیند آئی ...

مزید پڑھیے

درد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہے

درد ان دنوں یوں چہرۂ عالم پہ سجا ہے ہر شخص نے جیسے مرا غم بانٹ لیا ہے ہر آن ترے تن میں وہ جادو سا رچا ہے جو وصل کا لمحہ ہے وہ صحرا کی گھٹا ہے اک عمر کے بعد آج یکایک جو ملے ہو وہ سیل مسرت ہے کہ دل ڈوب گیا ہے وہ بات جو سن پاؤ تو پہروں تمہیں تڑپائے اک لمحے کی تنہائی نے جو مجھ سے کہا ...

مزید پڑھیے

چلو اتنی تو آسانی رہے گی

چلو اتنی تو آسانی رہے گی ملیں گے اور پریشانی رہے گی اسی سے رونق دریائے دل ہے یہی اک لہر طوفانی رہے گی کبھی یہ شوق نامانوس ہوگا کبھی وہ شکل انجانی رہے گی نکل جائے گی صورت آئنے سے ہمارے گھر میں حیرانی رہے گی سبک سر ہو کے جینا ہے کوئی دن ابھی کچھ دن گراں جانی رہے گی سنوگے لفظ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 313 سے 6203