قومی زبان

سرہانے بے بسی روتی رہی ہے

سرہانے بے بسی روتی رہی ہے شب غم زندگی روتی رہی ہے شب غم سانحہ کیا ہو گیا تھا بہر سو چاندنی روتی رہی ہے یہ میری شومیٔ قسمت پہ یارو سحر تک شمع بھی روتی رہی ہے مری بے چارگی پر بزم انجم کبھی ہنستی کبھی روتی رہی ہے گلوں کی مسکراہٹ یاد کر کے گلستاں میں کلی روتی رہی ہے خلش ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے

اس سے میرا تو کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں

اس سے میرا تو کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں اور یہ بھی ہے کہ وہ شخص پرایا بھی نہیں وہ مرے غم سے ہو انجان کچھ ایسا بھی نہیں وہ مرا حال مگر پوچھنے آیا بھی نہیں غیر کو قرب میسر ہے مگر اے ہمدم میری خاطر تو ترا دور کا جلوہ بھی نہیں عمر بھر ساتھ نبھانے کا کروں کیا وعدہ زندگی اب تو مجھے خود ...

مزید پڑھیے

کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں

کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں تجھی کو یاد کیا دل نے سرد آہوں میں اسی امید پہ دنیا کو ہم نے چھوڑ دیا سکون دل کو ملے گا تری پناہوں میں بہت حسین تھا بچپن کا وہ زمانہ بھی کوئی حسین کلی تھی مری نگاہوں میں کیا تھا تو نے بھی مجھ سے نباہ کا وعدہ یہ چاند اور ستارے بھی ہیں گواہوں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا تجھ کو منظور اگر ہو تو بھلا ہی دینا اے غم ہجر وہ تہمت جو لگائے مجھ پر میری بے لوث محبت کی گواہی دینا یہ الگ بات کہ ہو جاؤں محبت میں تباہ تو نہ مجھ کو کبھی احساس تباہی دینا وہ جو مجبور کریں شرح‌ غم فرقت کو اشک آمیز نگاہوں سے سنا ہی دینا ان کے ...

مزید پڑھیے

تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھا

تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھا خطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھا پھر اس نے کس لیے رکھے ہوا پہ اپنے قدم وہ گرد گرد تھا سوکھے لبوں کی پیاس نہ تھا میں اپنے آپ لٹا آسماں کی خواہش سے زمیں کا چہرہ مری نیند سے اداس نہ تھا یہ کس نے آنکھ کو ننگا کیا ہے دریا میں مہکتی ریت پہ کوئی ...

مزید پڑھیے

عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ

عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ سایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ دشت و دریا سے گزر ہو یا خلاؤں کا سفر اب بھی آساں ہے مگر مشکل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں مجھ کو سب معلوم ہے اپنی جانب سے مجھے غافل سمجھ بیٹھے ہیں لوگ زندگی کے ایک اک پل کی خبر رکھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیا

تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیا مر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیا جتنے غواص تھے وہ تہہ سے نہ خالی لوٹے جو شناور تھے انہیں ہاتھ نہ گوہر آیا میری قسمت میں وہی شب وہی ظلمت کا گزر صبح آئی نہ مرا مہر منور آیا سر جھکایا تو مجھے روند گئی ہے دنیا سر اٹھایا تو ہر اک سمت سے پتھر آیا وہ تو ...

مزید پڑھیے

پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیں

پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیں ترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیں بغاوت کی ہوا جب بھی دکھاتی ہے اثر اپنا تو پھر سنجیدہ لوگوں میں بھی کچھ خود سر نکلتے ہیں کوئی مجھ کو یہ بتلائے کہ اجلے پیرہن والے اندھیری رات کے عالم میں کیوں باہر نکلتے ہیں جنہیں دعویٰ ہے گلشن میں ...

مزید پڑھیے

تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہے

تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہے زبان چپ ہے نظر میں سوال کیسا ہے تمام شہر میں خوشیاں لٹانے نکلے تھے تمہارے چہرے پہ رنگ ملال کیسا ہے چلی گئی ہے مسرت تو مسکراہٹ کیوں اتر چکی ہے ندی تو ابال کیسا ہے یہاں سبھی کو سبھی سے عقیدتیں ہیں بہت قدم قدم پہ یہ سازش کا جال کیسا ہے کسی نے خون ...

مزید پڑھیے

جمال پا کے تب و تاب غم‌ یگانہ ہوا ہے

جمال پا کے تب و تاب غم‌ یگانہ ہوا ہے مرے لیے یہ زر گل چراغ خانہ ہوا ہے رم‌ خیال حریف رم زمانہ ہوا ہے طلوع‌ صبح تمنا پیمبرانہ ہوا ہے نین میں دل کی گلابی کا عکس جھوم رہا ہے دکھوں کی دھوم ہے عالم شراب خانہ ہوا ہے بس ایک جوت جگی ہے کہیں کوئی بھی نہیں ہے مزاج وصل بہ ہر رنگ عارفانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 312 سے 6203