قومی زبان

فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو

فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو چاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہو رات کی بلائیں ٹلیں تو شاخ صبح سے اتر ساحلوں سے پوچھتی ہے موج صبا کیسے ہو وقت کی نوازشوں نے خون کر دیا سفید سرگراں تھے ہم گلوں سے رنگ جدا کیسے ہو آسماں بھی تھک گیا ہے سر پہ ٹوٹ ٹوٹ کے چلتے چلتے ہے زمیں بھی ...

مزید پڑھیے

جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد سا

جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد سا چھپ چھپ کے کوئی مجھ میں ہے مجھ سے ہی ہم نبرد سا جاتے کہاں کہ زیر پا تھا ایک بحر خوں کنار اڑتے تو بار سر بنا اک دشت لاجورد سا کس چاندنی کی آنکھ سے بکھری شفق کی ریت میں موتی سا ڈھل کے گر پڑا شام کے دل کا درد سا نازک لبوں کی پنکھڑیاں تھرتھرا ...

مزید پڑھیے

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے یہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نے کوئی بھی شخص صحت مند کیا نظر آئے منافرت کا سبق عام کر دیا سب نے ملی نہ جب انہیں تعبیر اپنے خوابوں کی پھر اپنی آنکھوں کو نیلام کر دیا سب نے برا سمجھ کے بزرگوں نے جس کو چھوڑا تھا وہ کار بد خوش انجام دیا سب نے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کے

شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کے آئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کے احساس کے جنگل میں اک آگ بھڑکتی ہے جھونکے کسی گلشن میں ہیں رقص کناں لو کے اوروں نے بھی پوجا ہے اے دوست تجھے لیکن یکساں تو نہیں ہوتے جذبات من و تو کے یہ عہد تمنا بھی اک دور قیامت ہے جب حسن پیے آنسو اور عشق ...

مزید پڑھیے

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا میں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھا شجر شجر مری آمد کا منتظر موسم میں برگ گل سا ہواؤں کی اک اڑان میں تھا پٹک کے توڑ دیا جس نے تیشۂ جاں کو میں جوئے شیر سا پنہاں اسی چٹان میں تھا اندھیری رات میں سمت صدا پہ چھوڑ دیا ہوس کا تیر جو اس جسم کی کمان ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا

دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا دشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گا اس طرح پڑھتا ہوں بہتے ہوئے دریا کی کتاب صفحۂ آب پر اک عکس پیام آئے گا قریۂ جاں میں تھے یادوں کے شناسا چہرے اجنبی شہر میں کس کس کا سلام آئے گا مصلحت کیش تو گلہائے ستائش سے لدے سچ کے ہاتھوں میں وہی زہر کا جام ...

مزید پڑھیے

ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا

ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا فصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گا یہ عہد وہ ہے جو قائل نہیں صحیفوں کا یہ حرف حرف کو مصلوب کر کے تولے گا اتر ہی جائے گا رگ رگ میں آج زہر سکوت وہ پیار سے مرے لہجے میں شہد گھولے گا مرا نصیب ہی ٹھہرا جو رابطوں کی شکست طلسم جاں کا بھی یہ قفل کوئی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے

ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے ہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھے ڈر کے جنگل کی فضا سے پیچھے پیچھے ہو لیے لوگ چھپ کر قافلے پر وار کرنے آئے تھے اس گنہ پر مل رہی ہے سنگ ساری کی سازی پتھروں کو نیند سے بیدار کرنے آئے تھے لوگ سمجھے اپنی سچائی کی خاطر جان دی ورنہ ہم تو جرم کا ...

مزید پڑھیے

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں زلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میں چاندنی شب میں اس کے پیچھے جب میں اترا پانی میں چاندی اور سیماب لگا تھا پگھلا پگھلا پانی میں کتنے رنگ کی مچھلیاں آئیں للچاتی اور بل کھاتی قطرہ قطرہ میری رگوں سے خون جو ٹپکا پانی میں روشن ...

مزید پڑھیے

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو وہ ہاتھ میں آتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو گہرائی میں خطروں کا امکاں تو زیادہ ہے دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 301 سے 6203