فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو
فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو چاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہو رات کی بلائیں ٹلیں تو شاخ صبح سے اتر ساحلوں سے پوچھتی ہے موج صبا کیسے ہو وقت کی نوازشوں نے خون کر دیا سفید سرگراں تھے ہم گلوں سے رنگ جدا کیسے ہو آسماں بھی تھک گیا ہے سر پہ ٹوٹ ٹوٹ کے چلتے چلتے ہے زمیں بھی ...