قومی زبان

ہیں بزم گل میں بپا نوحہ خوانیاں کیا کیا

ہیں بزم گل میں بپا نوحہ خوانیاں کیا کیا بہار چھوڑ گئی ہے نشانیاں کیا کیا تمام عمر گل و مل کے درمیاں گزری تمام عمر رہیں سر گرانیاں کیا کیا وہ شخص عطر بدن جب بھی سامنے آیا دل و نظر پہ ہوئیں گل و فشانیاں کیا کیا خبر نہ تھی یہی وجہ سکون جاں ہوگی نگاہ یار سے تھیں بدگمانیاں کیا ...

مزید پڑھیے

ہوائے ہجر چلی دل کی ریگزاروں میں

ہوائے ہجر چلی دل کی ریگزاروں میں شرار جلتے ہیں پلکوں کی شاخساروں میں کوئی تو موجۂ طوفاں ادھر بھی آ نکلے سفینے ڈوب چلے بحر کے کناروں میں انہیں کی حسرت رفتہ کی یادگار ہوں میں جو لوگ رہ گئے تنہا بھری بہاروں میں ہمیں وہ سوکھے ہوئے زرد پیڑ ہیں جو کبھی بہار بانٹتے پھرتے تھے ...

مزید پڑھیے

دل مر چکا ہے اب نہ مسیحا بنا کرو

دل مر چکا ہے اب نہ مسیحا بنا کرو یا ہنس پڑو یا ہاتھ اٹھا کر دعا کرو اب حسن کے مزاج سے واقف ہوا ہوں میں اک بھول تھی جو تم سے کہا تھا وفا کرو دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست کس کی ادا سہو تو کسے رہنما کرو جس سے ہجوم غیر میں ہوتی ہیں چشمکیں اس اجنبی نگاہ سے بھی آشنا کرو اک سوز اک ...

مزید پڑھیے

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا بگولا رقص میں رہتا ہے صحرا میں نہیں رہتا بڑی مدت سے تیرا حسن دل بن کر دھڑکتا ہے بڑی مدت سے دل تیری تمنا میں نہیں رہتا یہ پانی ہے مگر مژگاں کی شاخوں پر سلگتا ہے یہ موتی ہے مگر دامان دریا میں نہیں رہتا وہ جلوہ جو سکوت بزم یکتائی میں ...

مزید پڑھیے

لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا

لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا بدنام ہو کے عشق میں ہم سرخ رو ہوئے اچھا ہوا کہ نام گیا ننگ رہ گیا ہوتی نہ ہم کو سایۂ دیوار کی تلاش لیکن محیط زیست بہت تنگ رہ گیا سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا اپنے گلے میں اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے فضا میں لالہ و گل کا لہو اچھالا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے ہجوم گل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو زمین صحن چمن آج بھی جوالا ہے ہمارے عشق سے درد جہاں عبارت ہے ہمارا عشق ہوس سے بلند و بالا ہے سنا ہے آج کے دن ...

مزید پڑھیے

اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیں

اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیں ظلمت دوراں میں خورشید سحر ملتے نہیں منزلوں کی جستجو کا تذکرہ بے سود ہے ڈھونڈنے نکلو تو اب اپنے ہی گھر ملتے نہیں آدمی ٹکڑوں کی صورت میں ہوا ہے منتشر وحدت فکر و نظر والے بشر ملتے نہیں راستے روشن ہیں آثار سفر معدوم ہیں بستیاں موجود ہیں دیوار و ...

مزید پڑھیے

مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا

مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا میرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا دل مر مٹا تلاوت رخسار یار میں مرحوم طفلگی سے ہی اہل کتاب تھا سوچا تو اس حبیب کو پایا قریب جاں دیکھا تو آستیں میں چھپا آفتاب تھا وہ بارگاہ میری وفا کا جواز تھی اس آستاں کی خاک مرا ہی شباب تھا میری ہر ایک صبح تھی ...

مزید پڑھیے

آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں

آندھیاں اٹھیں فضائیں دور تک کجلا گئیں اتفاقاً دو چراغوں کی لویں ٹکرا گئیں آہ یہ مہکی ہوئی شامیں یہ لوگوں کے ہجوم دل کو کچھ بیتی ہوئی تنہائیاں یاد آ گئیں اس فضا میں سرسراتی ہیں ہزاروں بجلیاں اس فضا میں کیسی کیسی صورتیں سنولا گئیں اے خزاں والو! خزاں والو! کوئی سوچو علاج یہ ...

مزید پڑھیے

عشق اک حکایت ہے سرفروش دنیا کی

عشق اک حکایت ہے سرفروش دنیا کی ہجر اک مسافت ہے بے نگار صحرا کی ان کے روبرو نکلے نطق و لفظ بے معنی بات ہی عجب لیکن خامشی نے پیدا کی وقت کے تسلسل میں ہم بہ رنگ شعلہ تھے عمر یک نفس میں بھی روشنی تھے دنیا کی ہم کو سہل انگاری غرق کر چکی ہوتی ہمت آفریں نکلی لہر لہر دریا کی یوں تو وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 297 سے 6203