خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے
خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے نگاہ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست اس آئنے سے بھی صورت تری نکلتی ہے مرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں یہاں تو صوت یقیں آپ ہی نکلتی ہے زباں بریدہ شکستہ بدن سہی پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں اور آواز بھی نکلتی ہے تمام شہر ...