قومی زبان

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے نگاہ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست اس آئنے سے بھی صورت تری نکلتی ہے مرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں یہاں تو صوت یقیں آپ ہی نکلتی ہے زباں بریدہ شکستہ بدن سہی پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں اور آواز بھی نکلتی ہے تمام شہر ...

مزید پڑھیے

جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے

جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے بارش سنگ میں سب آئنہ خانے نکلے سب بڑے زعم سے آئے تھے نئے صورت گر سب کے دامن سے وہی خواب پرانے نکلے رات ہر وعدہ و پیمان امر لگتا تھا صبح کے ساتھ کئی عذر بہانے نکلے اے کسی آتے ہوئے زندہ زمانے کے خیال ہم ترے راستے میں پلکیں بچھانے نکلے کاسۂ درد لیے ...

مزید پڑھیے

اب ہے کیا لاکھ بدل چشم گریزاں کی طرح

اب ہے کیا لاکھ بدل چشم گریزاں کی طرح میں ہوں زندہ ترے ٹوٹے ہوئے پیماں کی طرح کوئی دستک کوئی آہٹ نہ شناسا آواز خاک اڑتی ہے در دل پہ بیاباں کی طرح تو مری ذات مری روح مرا حسن کلام دیکھ اب تو نہ بدل گردش دوراں کی طرح میں نے جب غور سے دیکھا تو وہ پتھر نکلا ورنہ وہ حسن نظر آتا تھا ...

مزید پڑھیے

فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے

فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے چڑھے ہوئے ہیں جو دریا اتر ہی جائیں گے تمام رات در میکدہ پہ کاٹی ہے سحر قریب ہے اب اپنے گھر ہی جائیں گے تو میرے حال پریشاں کا کچھ خیال نہ کر جو زخم تو نے لگائے ہیں بھر ہی جائیں گے میان دار و شبستان یار بیٹھے ہیں جدھر اشارۂ دل ہو ادھر ہی جائیں ...

مزید پڑھیے

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدھم بھی مری تنہائیوں کی دل کشی تیری بلا جانے میری ...

مزید پڑھیے

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی تمہارے دم قدم سے زندگی تھی زندگی اپنی یہاں پابندی، ناراضی، جنونی بات ہے ورنہ جمال یار سے کچھ کم نہیں تابندگی اپنی مجھے شادابیٔ صحن چمن سے خوف آتا ہے یہی انداز تھے جب لوٹ گئی تھی زندگی اپنی تمہارا غم اسے آشوب صرصر بچائے گا ہواؤں سے بھڑک ...

مزید پڑھیے

عجب تھا دشت بلا کا منظر

عجب تھا دشت بلا کا منظر جہاں نئی نفرتوں کے خنجر پرانی رسم وفا کے دل میں اتر گئے تھے جہاں پرایوں کی سازش بے اماں کے باعث لہو کے رشتے بھی دشمن جاں بنے ہوئے تھے جہاں زمیں پر خریف آتش اگی ہوئی تھی جہاں فضا میں طیور آہن ابھر رہے تھے تمہارے عزم جواں نے اکثر نئے خیالوں کا نور بخشا تھا ...

مزید پڑھیے

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا شب کی سیاہیوں میں شفق گھولتا رہا تنہائیوں میں آتی رہی جب بھی اس کی یاد سایہ سا اک قریب مرے ڈولتا رہا حسن بہار خوب مگر دیدۂ بہار موتی چمن کی خاک پہ کیوں رولتا رہا اس نے سکوت کو بھی تکلم سمجھ لیا کچھ اس ادائے خاص سے دل بولتا رہا ہجراں کی رات مشغلۂ ...

مزید پڑھیے

اب عشق سے لو لگائیں گے ہم

اب عشق سے لو لگائیں گے ہم اب دل کے بھی کام آئیں گے ہم جب جھٹپٹا ہوگا شام غم کا پلکوں پہ دیئے جلائیں گے ہم ہم بن گئے ہیں ادا تمہاری چھیڑوگے تو روٹھ جائیں گے ہم اے مونس دل اے ہجر کی رات لے چل دیے اب نہ آئیں گے ہم کیا بیٹھے بٹھائے ہو گیا ہے پوچھیں گے تو کیا بتائیں گے ہم وہ آنکھ بڑی ...

مزید پڑھیے

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا وہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہے مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا حجاب حسن سے بڑھتی ہے وار عریانی یہی سبب ہے میں آزردۂ‌ حیا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 296 سے 6203