قومی زبان

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا

اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا ابر چھٹ جائیں وہ منظر بھی نہیں آنے کا اب کے آغاز سفر سوچ سمجھ کے کرنا دشت ملنے کا نہیں گھر بھی نہیں آنے کا ہائے کیا ہم نے تڑپنے کا صلہ پایا ہے ایسا آرام جو آ کر بھی نہیں آنے کا عہد غالبؔ سے زیادہ ہے مرے عہد کا کرب اب تو کوزے میں سمندر بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

چاند کوئی افسانہ نہیں

اب تو علم کی پروازیں اور ہی قصے کہتی ہیں باجی اب تو مت بولو چاند میں پریاں رہتی ہیں چاند نہ اپنا ماموں ہے اور نہ دیس وہ پریوں کا چاند میں کوئی بڑھیا ہے اور نہ بڑھیا کا چرخا صدیوں صدیوں کھوج کے بعد اب ہم نے یہ جانا ہے چاند کوئی افسانہ نہیں ایک حقیقی دنیا ہے سردی گرمی دونوں ...

مزید پڑھیے

چاچا نہرو کا خط بچوں کے نام

مرے عزیز وطن کے عزیز فرزندو مرے وطن کی نئی صبح کے نقیب ہو تم بچھڑ کے تم سے کئی سال ہو چکے ہیں مگر گمان ہوتا ہے اب تک مرے قریب ہو تم دوالیاں ہوں کہ عیدیں خوشی منا لینا کبھی یہ دل میں نہ لانا کہ بد گماں ہوں میں تم اس یقین کو دل سے نکالنا نہ کبھی کہ دور رہ کے بھی تم سب کے درمیاں ہوں ...

مزید پڑھیے

آنکھ لگتی بھی نہیں ہے کہ جگا دیتا ہے

آنکھ لگتی بھی نہیں ہے کہ جگا دیتا ہے کوئی دروازے کی زنجیر ہلا دیتا ہے گھر سے نکلو تو پتا جیب میں رکھ کر نکلو حادثہ چہرے کی پہچان مٹا دیتا ہے ہم جو بڑھتے ہیں کبھی امن کا پرچم لے کر راستوں میں کوئی بارود بچھا دیتا ہے تم صداقت کی گھنی چھاؤں میں پی کر دیکھو زہر سچائی کا امرت کا مزا ...

مزید پڑھیے

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے

ارادہ ہو اٹل تو معجزہ ایسا بھی ہوتا ہے دیے کو زندہ رکھتی ہے ہوا ایسا بھی ہوتا ہے سنائی دے نہ خود اپنی صدا ایسا بھی ہوتا ہے میاں تنہائی کا اک سانحہ ایسا بھی ہوتا ہے چھڑے ہیں تار دل کے خانہ بربادی کے نغمے ہیں ہمارے گھر میں صاحب رت جگا ایسا بھی ہوتا ہے بہت حساس ہونے سے بھی شک کو ...

مزید پڑھیے

سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریں

سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریں اک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریں اس طرح تو اور بھی کچھ بوجھ ہو جائے گی رات کچھ کہیں کوئی چراغ واقعہ روشن کریں جانے والے ساتھ اپنے لے گئے اپنے چراغ آنے والے لوگ اپنا راستہ روشن کریں جلتی بجھتی روشنی کا کھیل بچوں کو دکھائیں شمع رکھیں ہاتھ ...

مزید پڑھیے

پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا

پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا سب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگا اب تک جو دستور جنوں تھا ہم نے وہی منظر مانگا صحرا دل کے برابر چاہا اور یا آنکھوں بھر مانگا ابر کے احساں سے بچنا تھا دل کو ہرا بھی رکھنا تھا ہم نے اس پودے کی خاطر موجۂ دیدۂ تر مانگا فاصلے کچھ ...

مزید پڑھیے

رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھا

رہے نہ گھر کے ہوئے خوار یہ تو ہونا تھا تری تلاش میں اے یار یہ تو ہونا تھا قطار جلتے چراغوں کی بر سر دیوار سیاہیاں پس دیوار یہ تو ہونا تھا زمین بانٹنے والوں کے ہم مخالف تھے ہمیں پہ آ گری تلوار یہ تو ہونا تھا گزر کے اک رہ پر خار سے یہاں پہنچے یہاں سے پھر رہ پر خار یہ تو ہونا ...

مزید پڑھیے

طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گا

طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گا کہ ایک آنسو بھی کوئی باہر نہیں ملے گا یہ شہر بھیدوں بھرا یہاں آدمی ملیں گے مگر کسی کے بھی دوش پر سر نہیں ملے گا ملے گا دفتر تو چھوٹ جائے گا گھر کہیں پر جو گھر ملے گا کہیں تو دفتر نہیں ملے گا زمیں پہ پکی عمارتیں اگ رہی ہیں ایسے دوانے سر پھوڑنے ...

مزید پڑھیے

روشنی پرچھائیں پیکر آخری

روشنی پرچھائیں پیکر آخری دیکھ لوں جی بھر کے منظر آخری میں ہوا کے جھکڑوں کے درمیاں اور تن پر ایک چادر آخری ضرب اک ٹھہرے ہوئے پانی پہ اور جاتے جاتے پھینک کنکر آخری دونوں مجرم آئنہ کے سامنے پہلا پتھر ہو کہ پتھر آخری ٹوٹتی اک دن لہو کی خامشی دیکھ لیتے ہم بھی محشر آخری یہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 289 سے 6203