قومی زبان

آنگن انگن جاری دھوپ

آنگن انگن جاری دھوپ میرے گھر بھی آری دھوپ کیا جانے کیوں جلتی ہے صدیوں سے بچاری دھوپ کس کے گھر تو ٹھہرے گی تو تو ہے بنجاری دھوپ اب تو جسم پگھلتے ہیں جاری جا اب جاری دھوپ چھپ گئی کالے بادل میں موسم سے جب ہاری دھوپ ہو جاتی ہے سرد کبھی اور کبھی چنگاری دھوپ آج بہت ہے ...

مزید پڑھیے

بستی بستی جنگل جنگل گھوما میں

بستی بستی جنگل جنگل گھوما میں لیکن اپنے گھر میں آ کر سویا میں جب بھی تھکن محسوس ہوئی ہے رستے کی بوڑھے برگد کے سائے میں بیٹھا میں کیا دیکھا تھا آخر میری آنکھوں نے چلتے چلتے رستے میں کیوں ٹھہرا میں جب بھی جھک کر ملتا ہوں میں لوگوں سے ہو جاتا ہوں اپنے قد سے اونچا میں ٹھنڈے موسم ...

مزید پڑھیے

کتنے ہاتھ سوالی ہیں

کتنے ہاتھ سوالی ہیں کتنی جیبیں خالی ہیں سب کچھ دیکھ رہا ہوں میں راتیں کتنی کالی ہیں منظر سے لا منظر تک آنکھیں خالی خالی ہیں اس نے کورے کاغذ پر کتنی شکلیں ڈھالی ہیں صرف ظفر تابشؔ ہیں ہم غالبؔ میرؔ نہ حالیؔ ہیں

مزید پڑھیے

گر گئے جب سبز منظر ٹوٹ کر

گر گئے جب سبز منظر ٹوٹ کر رہ گیا میں اپنے اندر ٹوٹ کر سو رہے تھے شہر بھی جنگل بھی جب رو رہا تھا نیلا امبر ٹوٹ کر میں سمٹ جاؤں گا خود ہی دوستو میں بکھر جاتا ہوں اکثر ٹوٹ کر اور بھی گھر آندھیوں کی زد میں تھے گر گیا اس کا ہی کیوں گھر ٹوٹ کر رو رہا ہے آج بھی تقدیر پر سبز گنبد سے وہ ...

مزید پڑھیے

دشمن کے راستوں کا بھی پتھر ہٹائیں گے

دشمن کے راستوں کا بھی پتھر ہٹائیں گے ہم چلتے پھرتے راہ میں نیکی کمائیں گے دشوار ہو گیا ہے کھلونے خریدنا اب کیسے بچے گڑیا کی شادی رچائیں گے پاپا کھلونے بیچ کے آٹا خرید لو بھوکے ہیں گھر کے لوگ یہ کس کام آئیں گے دن دوستوں میں کاٹ بھی لیں گے تو رات کو تنہائیوں میں آپ بہت یاد آئیں ...

مزید پڑھیے

ایسے ویسوں کو یہاں ہم نہیں گنتے صاحب

ایسے ویسوں کو یہاں ہم نہیں گنتے صاحب آپ اچھے ہیں بہت اچھے ہیں ہوں گے صاحب کس کے ملنے کی خوشی کس کے بچھڑنے کا غم ٹوٹتے رہتے ہیں مٹی کے کھلونے صاحب تہ بہ تہ گرد گناہوں کی جمی ہے اس پر جانماز اپنی ذرا اور جھٹکئے صاحب باتوں باتوں ہی میں کیا جان نکالو گے مری ہو چکی بات ذرا دور سرکیے ...

مزید پڑھیے

پاؤں سے نکلی زمیں تو لاپتا ہو جاؤ گے

پاؤں سے نکلی زمیں تو لاپتا ہو جاؤ گے تم ہوا میں مت اڑو ورنہ ہوا ہو جاؤ گے چلتے چلتے راستے میں موڑ آیا مڑ گئے ہم نے سوچا بھی نہیں تھا تم جدا ہو جاؤ گے دوسروں کے غم کو اپنا غم بنانا سیکھ لو لوگ پوجیں گے تمہیں تم دیوتا ہو جاؤ گے تم ہنسا بولا کرو بت بن کے مت بیٹھا کرو ورنہ بکنے والے ...

مزید پڑھیے

مقدس درس گاہوں کی حرم کی اور شوالوں کی

مقدس درس گاہوں کی حرم کی اور شوالوں کی اندھیرے میں قسم کھاتی ہے یہ دنیا اجالوں کی ذرا پہچان ان مجبور انسانوں کے چہروں کو جو غیرت کے سبب جرأت نہیں کرتے سوالوں کی تم اپنے عہد کی باتیں کہیں محفوظ کر لینا مؤرخ کو ضرورت پڑتی رہتی ہے حوالوں کی ہماری شخصیت پر دوستو پانی نہ پھر ...

مزید پڑھیے

نہ کہو تم بھی کچھ نہ ہم بولیں

نہ کہو تم بھی کچھ نہ ہم بولیں آؤ خاموشیوں کے لب کھولیں بستیاں ہم خود ہی جلا آئے کسی برگد کے سائے میں سو لیں کچھ نئے رنگ سامنے آئیں آ کئی رنگ ساتھ میں گھولیں زرد منظر عجیب سناٹے کھڑکیاں کیوں گھروں کی ہم کھولیں راستے سہل ہیں مگر تابشؔ کون ہے ساتھ جس کے ہم ہو لیں

مزید پڑھیے

یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے

یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے بچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہے سوال یہ ہے چھڑا لیں مسئلوں سے دامن کہ ان میں رہ کر ہی کوئی رستہ نکالنا ہے جہان سوداگری میں دل کا وکیل بن کر اس عہد کی منصفی کو حیرت میں ڈالنا ہے جو مجھ میں بیٹھا اڑاتا رہتا ہے نیند میری مجھے اب اس آدمی کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 288 سے 6203