قومی زبان

ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہا

ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہا مرنے جینے کا مزا جاتا رہا زندگی کا آسرا جاتا رہا ہائے جینے کا مزا جاتا رہا لے گیا سرمایۂ صبر و قرار مایہ دار اب صبر کا جاتا رہا عمر بھر کی سب کمائی لٹ گئی زیست کا برگ و نوا جاتا رہا دل اگر باقی رہا کس کام کا چین دل کا اے خدا جاتا رہا زندگانی کی حلاوت ...

مزید پڑھیے

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں گھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں پردہ اٹھے کہ نہ اٹھے مگر اے پردہ نشیں آج ہم رسم تکلف کو اٹھا دیتے ہیں آتے جاتے نہیں کمبخت پیامی ان تک جھوٹے سچے یوں ہی پیغام سنا دیتے ...

مزید پڑھیے

دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں

دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں پردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں مدعا سامنے ان کے نہیں آتا لب تک بات بھی کیا غم دل ہے کہ سنا بھی نہ سکوں بے جگہ آنکھ لڑی دیکھیے کیا ہوتا ہے آپ جا بھی نہ سکوں ان کو بلا بھی نہ سکوں وہ دم نزع مرے بہر عیادت آئے حال کب پوچھتے ہیں جب کہ سنا ...

مزید پڑھیے

گل ہوا یہ کس کی ہستی کا چراغ

گل ہوا یہ کس کی ہستی کا چراغ مدعی کے گھر جلا گھی کا چراغ خیر سے رہتا ہے روشن نام نیک حشر تک جلتا ہے نیکی کا چراغ وہ حقیقت ہے دل افسردہ کی ٹمٹمائے جیسے سردی کا چراغ ہم سے روشن ہے تمہاری بزم یوں ناگوارا جیسے گرمی کا چراغ ہو قناعت تجھ کو تو بس ہے ظہیرؔ خانہ آرائی کو دمڑی کا چراغ

مزید پڑھیے

ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے

ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے اور دو چار کے گھر آگ لگا کر اٹھے تم نے پہلو میں مرے بیٹھ کے آفت ڈھائی اور اٹھے بھی تو اک حشر اٹھا کر اٹھے وعدۂ وصل سے ہے نعش پہ آنے کی امید مژدۂ قتل مرا مجھ کو سنا کر اٹھے منہ چھپانے میں تو ہے شرم و حیا کا پردہ ہاں مگر دل بھی نگہ تھا کہ چرا کر ...

مزید پڑھیے

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور کیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اور تم سامنے آتے ہو تو چھپتے ہو سوا اور پردے کی حیا اور ہے آنکھوں کی حیا اور کچھ آگ لگائے گا نئی شعلۂ رخسار کچھ رنگ دکھائے گا ترا رنگ حنا اور انسان وہ کیا جس کو نہ ہو پاس زباں کا یہ کوئی طریقہ ہے کہا اور کیا ...

مزید پڑھیے

دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرض

دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرض تم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرض ہے دل میں اگر اس سے محبت کا ارادہ لے لیجئے دشمن کے لئے ہم سے وفا قرض عاشق کے ستانے میں دریغ ان کو نہ ہوگا موجود ہیں لینے کو جو مل جائے جفا قرض اس ہاتھ سے دو قول تو اس ہاتھ سے لو دل دیتا ہے کوئی حشر کے وعدے یہ ...

مزید پڑھیے

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا کچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کا ہائے دل اور دل زار کے ہم سے برتاؤ اور پھر تم سے دل زار پہ آنا دل کا شمع سے زینت پہلو ہے نہ پروانے سے تم کو منظور ہے ہر طرح جلانا دل کا ناصحو زلف کے الجھاؤ برے ہوتے ہیں کچھ ہنسی کھیل سمجھتے ہو چھڑانا دل کا قہر ...

مزید پڑھیے

روز بدلی ہوئی دنیا کی فضا دیکھتے ہیں

روز بدلی ہوئی دنیا کی فضا دیکھتے ہیں آج کس سمت میں چلتی ہے ہوا دیکھتے ہیں جو بھی ہوتا ہے وہ ہوتا ہے امیدوں کے خلاف دل میں کیا سوچتے ہیں آنکھ سے کیا دیکھتے ہیں پہلے سنتے تھے کہیں قتل ہوا ہے کوئی اب تو یہ کھیل شب و روز کھلا دیکھتے ہیں ہم کہیں آگ بجھانے کے لیے نکلے تھے واپس آئے ہیں ...

مزید پڑھیے

رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئے

رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئے وہ راستہ بدل کے گزر تو نہیں گئے ترک تعلقات سے تم کو بھی کیا ملا ہم بھی غم فراق سے مر تو نہیں گئے ہم پہ ترس نہ کھا ہمیں لاچار دیکھ کر ہم ٹوٹ بھر گئے ہیں بکھر تو نہیں گئے دریا کے پار اتر کے جلائی ہیں کشتیاں ناکام لوٹ کے کبھی گھر تو نہیں گئے دور خزاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 286 سے 6203