ایک دعا
اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ اندر آنے دو مجھ کو یا خود ہی باہر آؤ پیاسے کو مت ترساؤ بس پانی کا اک قطرہ ان آنکھوں کو کافی ہے یہ پیاسی آنکھیں میری تم پانی کا ساگر ہو اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ
اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ اندر آنے دو مجھ کو یا خود ہی باہر آؤ پیاسے کو مت ترساؤ بس پانی کا اک قطرہ ان آنکھوں کو کافی ہے یہ پیاسی آنکھیں میری تم پانی کا ساگر ہو اب بولو کہاں چھپے ہو اب کھولو بھی دروازہ
گونجتے گرجتے ہوئے راستے پر ایک عورت گھر کی قید سے بھاگی ہوئی عورت گرد سے اٹی ہوئی تھکی ہوئی اور ڈگمگاتی ہوئی اداس اور پریشان دنیا کے اجنبی اور بے رحم راستے پر ایک عورت ماضی سے نالاں اور بیزار مستقبل سے بے خبر حال کے جنگل میں اکیلی ایک عورت ہر طرف لوگوں کے ہجوم ہر طرف شور ہی ...
گہرے شہروں میں رہنے سے وسعت کا احساس مٹا لا محدود خلاؤں کی خاموشی کا خوف مٹا اب آرام ہے جنگل کا جادو اور ہواؤں کا سنگیت نہیں تو کیا ہے اب آرام کہ اب اگیان کے پیدا کردہ ہاتھ نہیں ظالم ہاتھ کہ جن ہاتھوں میں ہاتھ دیے مذہب کے ویرانوں میں میں مارا مارا پھرتا تھا اب آرام سمندر کی آواز ...
زندگی ایک خواب ہے میرے لیے محبت کا طویل اور اذیت ناک خواب میں دنیا کے ہنگاموں سے غافل ہوں انسانوں کا شور میری ذات کی سرحدوں پر رک جاتا ہے اندر آنا منع ہے میرے دل کا دروازہ بند ہے میرا کوئی گھر نہیں میں اپنے پاگل پن کے ریگستان میں بھٹک رہا ہوں میں اپنے اندر سفر کر رہا ہوں میں باہر ...
جس دن میرے دیس کی مٹی کومل مٹی پتھر بن کر محلوں اور قلعوں کے روپ میں ڈھل جائے گی اس دن گندم جل جائے گی جس دن میرے دیس کے دریاؤں کا پانی ٹھنڈا پانی بجلی بن کر شہروں کی کالی راتوں کی زینت کا سامان بنے گا اس دن چاند پگھل جائے گا جس دن میرے دیس کی ہلکی تیز ہوائیں انسانوں کے خون سے بھر ...
جوش ہر موج میں اچھال کا تھا حوصلہ ہم میں بھی کمال کا تھا لوگ کیوں اپنی سمت بھول گئے سوئی کا رخ اگر شمال کا تھا ہو گئے میرے راستے روشن یہ اجالا ترے جمال کا تھا میں نے بھی اپنے پھن نکال لئے اس کا انداز اشتعال کا تھا مسجدوں میں دعائیں ٹھہر گئیں وقت شاید ابھی زوال کا تھا نام ...
نئی راہوں پہ چلنا چاہتا ہے زمانہ پھر بدلنا چاہتا ہے یہ بادل کیوں پریشاں کر رہے ہیں اگر سورج نکلنا چاہتا ہے زمانہ تنگ ہو جاتا ہے اس پر وہ جب خود کو بدلنا چاہتا ہے بھڑکتی ہے غریبی آگ بن کر خوشی سے کون جلنا چاہتا ہے گراتے ہیں اسے حالات اس کے اگر کوئی سنبھلنا چاہتا ہے ظفرؔ اب شام ...
میرے خیال میں وہ عورت دنیا کی لذیذ ترین عورت ہے میں اس کے اندر غرق ہو جاؤں گا وہ مجھے دور دور سے اپنا آپ دکھاتی ہے میرے اندر بھوک اور پیاس کو بیدار کرتی ہے اور جب میں خواہش کی آگ میں جلنے لگتا ہوں وہ اطمینان سے ہنسنے لگتی ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کو کھا جاؤں میں اس کو پورے کا ...
پورے کنبے سے نفرت یا پیار کرو ایک سے نفرت ایک سے پیار یہ کیا ہے لوگ سبھی اک جیسے ہیں جاہل ہیں تو سب جاہل ہیں عالم ہیں تو سب کے سب ظلم کسی اک شخص سے تو مخصوص نہیں ہے جس کو تم ظالم کہتے ہو وہ بھی بچپن میں معصوم تھا خوشبو کی مانند ضرر سے خالی اور جس کو ودوان ہو کہتے اس کا ذہن کل تک چٹے ...
کیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہے اس کی چھاتیوں کے درمیان ایک سانپ رینگ رہا ہے اس کی رانوں کے درمیان سفید پانی کا چشمہ ہے میں پیاس سے مر رہا ہوں لیکن میں اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا میں ایک درخت کے اندر قید ہوں کیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں وہ ایک سانپ کو کھا گئی ...