چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے
چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے خموش لب ہے جو دریا تو خیر ہے سب کی بگڑ گیا تو وہ بستی نگل بھی سکتا ہے چلو اے تشنہ لبو ہم اٹھائیں دست دعا کہ آسمان دعا سے پگھل بھی سکتا ہے مناؤ جشن مکمل بہار آنے پر ابھی نیا سا ہے موسم بدل بھی سکتا ہے وہ پھول ...