قومی زبان

چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے

چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہے ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے خموش لب ہے جو دریا تو خیر ہے سب کی بگڑ گیا تو وہ بستی نگل بھی سکتا ہے چلو اے تشنہ لبو ہم اٹھائیں دست دعا کہ آسمان دعا سے پگھل بھی سکتا ہے مناؤ جشن مکمل بہار آنے پر ابھی نیا سا ہے موسم بدل بھی سکتا ہے وہ پھول ...

مزید پڑھیے

جب تلک در پیش کوئی حادثہ ہوتا نہیں

جب تلک در پیش کوئی حادثہ ہوتا نہیں زندگی کیا ہے ہمیں اس کا پتہ ہوتا نہیں سیدھا رستہ دیکھنے میں یوں تو ہے آساں مگر جب چلو اس پر تو یہ آسان سا ہوتا نہیں سب نے پہنی ہیں قبائیں شہر بھر میں ایک سی کون کیسا ہے یہاں اس کا پتہ ہوتا نہیں ہے یہ نا ممکن نظر آ جائے جلوہ گاہ ناز سجدہ گاہ ...

مزید پڑھیے

زندگی کو اک کہانی دے گیا

زندگی کو اک کہانی دے گیا ہم سفر اپنی نشانی دے گیا ابر رویا آنسوؤں سے اس قدر سوکھے دریا کو بھی پانی دے گیا رکھ گیا ویرانیٔ گلشن کو پاس اور مجھ کو باغبانی دے گیا جاگتی آنکھوں میں رکھ کر خواب سا زندگانی کو روانی دے گیا بوڑھا برگد پی گیا سورج کی آگ دھوپ کیسی سائبانی دے گیا اپنے ...

مزید پڑھیے

نظم

میں ستاروں اور درختوں کی خاموشی کو سمجھ سکتا ہوں میں انسانوں کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوں میں انسانوں سے نفرت نہیں کرتا میں ایک عورت سے محبت کرتا ہوں میں دنیا کے راستوں پر چلنے سے معذور ہوں میں اکیلا ہوں میں لوگوں میں شامل ہونا نہیں چاہتا میں آزاد رہنا چاہتا ہوں میں خوش رہنا ...

مزید پڑھیے

نظم

ایک تو خواب ڈراتے ہیں مجھے دھوپ میں زرد درختوں پہ کھلے کالے پھول پہلے پانی تھا جہاں دھول وہاں اڑتی ہے میں نے عورت کو نہیں دیکھا تھا اس کا پیغام ملا بارش میں وہ مرے پاس جب آئی تھی تو میں تنہا تھا اور اس پہلی ملاقات کی حیرانی میں آج بھی غرق ہوں میں لوگ جس وہم میں ہیں میں بھی ہوں ہے ...

مزید پڑھیے

بیمار لڑکا

رحم مادر سے نکلنا مرا بے سود ہوا آج بھی قید ہوں میں حکم مادر کو میں تبدیل کروں ماں کی نفرت بھری آنکھوں سے کہیں دور چلا جاؤں میں بے نیازی سے پھروں پاپ کے کانٹے چن کر روح ناپاک کروں گیت شہوت کے ہوس کے سن کر ذہن بے باک کروں ایسے جیون کی ہے حسرت اب تک پیار ...سب کہتے ہیں وہ پیار مجھے ...

مزید پڑھیے

نظم

زاہد خشک ہوں دنیا میں نہ پوچھو مجھ کو دیکھنا ہو تو کسی پگ پہ کسی پیڑ کے نیچے جس کی ایک بھی شاخ نہ پتوں سے ہری ہو دیکھو یا کسی ناؤ میں جو پار جاتی ہوئی روحوں سے بھری ہو دیکھو پار جانا ہے مجھے بہتے پانی سے ادھر دور جہاں ایک وادی ہے جو ویران بھی خاموش بھی ہے ایک دیوی نے وہاں گھاس اگا ...

مزید پڑھیے

ایک ویران گاؤں میں

انہی سوکھے ہوئے میدانوں میں اب جہاں دھوپ کی لہروں کے سوا کچھ بھی نہیں سبز لہراتے ہوئے کھیت ہوا کرتے تھے لوگ آباد تھے پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں محفلیں جمتی تھیں افسانے سنے جاتے تھے آج ویران مکانوں میں ہوا چیختی ہے دھول میں اڑتے کتابوں کے ورق کس کی یادوں کے ورق کس کے خیالوں کے ...

مزید پڑھیے

اس شہر میں

خوبصورت ہے زمیں دھوپ میں چمکے ہوئے اس شہر میں زندگی دلچسپ ہے عقل کی باتیں جہنم کی دھدکتی آگ ہیں ان سے ہم واقف نہیں امن ہے اور نیند ہے اور خواب ہیں اپنی ہی لذت میں گم جسم ہیں دوستوں سے دور ہنگاموں میں میں کھویا ہوا پر سکون آہ کتنی خوبصورت ہے زمین دھوپ میں چمکے ہوئے اس شہر میں زندگی ...

مزید پڑھیے

فقط موت مجھے بھاتی ہے

ایسے لگتا ہے کہ صحرا ہے کوئی دور تک پھیلی ہوئی ریت کو جب دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں وہی پیاس چھلک آتی ہے روح کی پیاس چھلک آتی ہے پھر ہوا وقت کے ہاتھوں میں ہے تلوار کی مانند رواں پھر سلگتا ہوں فقط موت مجھے بھاتی ہے دل مرا آج بھی افسردہ اداس دل بدلتا ہی نہیں راستے روز بدل لیتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 281 سے 6203