قومی زبان

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا زمیں واقف نہیں بنتی فلک سایا نہیں دیتا خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی ...

مزید پڑھیے

سوکھی زمیں کو یاد کے بادل بھگو گئے

سوکھی زمیں کو یاد کے بادل بھگو گئے پلکوں کو آج بیتے ہوئے پل بھگو گئے آنسو فلک کی آنکھ سے ٹپکے تمام رات اور صبح تک زمین کا آنچل بھگو گئے ماضی کے ابر ٹوٹ کے برسے کچھ اس طرح مدت سے خشک آنکھوں کے جنگل بھگو گئے وقت سفر جدائی کے لمحات مضمحل اک بے وفا کی آنکھ کا کاجل بھگو گئے میں ...

مزید پڑھیے

غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئے

غرور و ناز و تکبر کے دن تو کب کے گئے ظہیرؔ اب وہ زمانے حسب نسب کے گئے بہت غرور گلستاں میں تھا گلابوں کو تمہیں جو دیکھا تو ہوش و حواس سب کے گئے مچا ہے شور خزاں کا ہے رخ اسی جانب اگر یہ سچ ہے تو سمجھو کہ ہم بھی اب کے گئے خلوص سے نہ سہی رسم ہی نبھانے کو تم آ گئے ہو تو شکوے تمام لب کے ...

مزید پڑھیے

اپنے زخموں کو دھو رہا ہے کوئی

اپنے زخموں کو دھو رہا ہے کوئی خون ہی خون ہو رہا ہے کوئی قصۂ غم سنجو رہا ہے کوئی موتیوں کو پرو رہا ہے کوئی میری آنکھوں میں پھر سے آنسو ہیں آج پھر دل میں رو رہا ہے کوئی بات ہاں نا کی تھی کسی کے لئے عمر کا بوجھ ڈھو رہا ہے کوئی گلشن عشق کا پتہ دے کر خوشبوؤں میں ڈبو رہا ہے کوئی خواب ...

مزید پڑھیے

لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہے

لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہے یہ دکھ خزاں میں کہاں تھا جو اب بہار میں ہے جو خشک ہونے لگا ہے تو تازہ کر دے گا کہ زخم زخم مرا سب نگاہ یار میں ہے میں بھول کر بھی نہیں بھول پا رہا ہوں جسے وہ ایک نام جو اب بھی دل فگار میں ہے ڈھلے گا شام کو سورج تو حال پوچھوں گا ابھی زمانہ ہے اس کا ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی چھت نہ کوئی سائبان رکھتے ہیں

نہ کوئی چھت نہ کوئی سائبان رکھتے ہیں ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں بچا کے ہم یہ بزرگوں کی شان رکھتے ہیں نہیں ہے شمع مگر شمع دان رکھتے ہیں گلے بھی ملتے ہیں ہاتھوں کو بھی ملاتے ہیں غضب کی دوری بھی ہم درمیان رکھتے ہیں خدایا تیرا کرم ہے کہ کچھ نہ رکھتے ہوئے ہم اپنی مٹھی میں ...

مزید پڑھیے

کہتا ہے دیوانہ کیا

کہتا ہے دیوانہ کیا سچ کیا ہے افسانہ کیا مطلب کی اس دنیا میں اپنا کیا بیگانہ کیا تو بھی مسافر میری طرح تیرا میرا ٹھکانا کیا خود میں گم ہیں جب سب لوگ زخموں کا دکھلانا کیا بادل بارش سایہ دھوپ سب سے دھوکا کھانا کیا غم بھی اپنا خوشیاں بھی پھر یہ رونا گانا کیا دل بھی جھکے تو بات ...

مزید پڑھیے

زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کل

زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کل کس قدر زہریلا انساں ہو رہا ہے آج کل شہر اپنا لوگ اپنے اور اپنا گھر بھی ہے آدمی کیوں پھر بھی تنہا ہو رہا ہے آج کل وقت سے پہلے مرے بچے بڑے ہونے لگے اک عجب سا یہ زمانہ ہو رہا ہے آج کل آئنے کے سامنے جانے سے کتراتے ہیں لوگ آئنہ بھی کتنا تنہا ہو رہا ہے ...

مزید پڑھیے

اپنے آپ سے

میں نے لوگوں سے بھلا کیا سیکھا یہی الفاظ میں جھوٹی سچی بات سے بات ملانا دل کی بے یقینی کو چھپانا سر کو ہر غبی کند ذہن شخص کی خدمت میں جھکانا ہنسنا مسکراتے ہوئے کہنا صاحب زندگی کرنے کا فن آپ سے بہتر تو یہاں کوئی نہیں جانتا ہے گفتگو کتنی بھی مجہول ہو ماتھا ہموار کان بیدار رہیں ...

مزید پڑھیے

تنہائی

یہ زمیں یہ آسماں یہ کائنات ایک لا محدود وسعت ایک بے معنی وجود آدمی اس ابتری کی روح ہے آدمی اس مادے کا ذہن ہے ابتری لا انتہا مادہ لا انتہا آدمی محدود ہے آدمی کا ذہن بھی محدود ہے روح بھی محدود ہے یہ زمیں یہ آسماں یہ کائنات جبر کا اک سلسلہ کس طرح سمجھوں اسے کرب ہے اور روح کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 280 سے 6203