قومی زبان

جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ

جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ تنک مزاجوں کو لگتی ہے یوں قمر کی دھوپ مرے جنون قدم نے بڑا ہی کام کیا جو گرد راہ بڑھی کم ہوئی سفر کی دھوپ صفائے شیشۂ عارض پہ کھل گئی ہے شفق جو ان کے رخ پہ پڑی ہے مری نظر کی دھوپ شب وصال کی یہ شام بھی ہے رشک سحر مہک مہک کے سرکتی ہے بام و در کی ...

مزید پڑھیے

خواب گاہوں سے اذان فجر ٹکراتی رہی

خواب گاہوں سے اذان فجر ٹکراتی رہی دن چڑھے تک خامشی منبر پہ چلاتی رہی ایک لمحہ کی خطا پھیلی تو ساری زندگی چبھتے ذرے کانچ کے پلکوں سے چنواتی رہی کب یقیں تھا کوئی آئے گا مگر ظالم ہوا بند دروازے کو دستک دے کے کھلواتی رہی لمس حرف و صوت کی لذت سے واقف تھی مگر پہلوئے آواز میں تخئیل ...

مزید پڑھیے

بے برگ و بار راہ میں سوکھے درخت تھے

بے برگ و بار راہ میں سوکھے درخت تھے منزل تہہ قدم ہوئی ہم تیز بخت تھے حملے چہار سمت سے ہم پر ہوئے مگر اندر سے وار جتنے ہوئے زیادہ سخت تھے تھے پیڑ پر تو مجھ کو بہت خوش نما لگے توڑے تو جتنے پھل تھے کسیلے کرخت تھے سوئے تو یاد قوس قزح میں سمٹ گئی جاگے تو جتنے رنگ تھے وہ لخت لخت تھے سر ...

مزید پڑھیے

جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانی

جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانی اسے بھی لے گیا ساتھ اپنے یاس کا پانی میں لے کے آیا تھا ہمراہ جن کو دریا تک وہ لوگ پی گئے میری بھی پیاس کا پانی کب اپنے شہر میں سیلاب آنے والا تھا ہمیں ڈبو کے گیا آس پاس کا پانی ہزاروں عیب چھپانے کو لگ کے دنیا میں بدن پہ رکھتے ہیں زریں لباس کا ...

مزید پڑھیے

رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے

رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے جاتے رہے سینکڑوں دل کش بہاریں تھیں ہماری منتظر ہم تری خواہش میں لیکن ٹھوکریں کھاتے رہے عمر بھر دیکھا نہ اپنے چاک دامن کی طرف بس تری الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتے رہے جن کی خاطر پی گئے رسوائیوں کا زہر بھی وہ بھری ...

مزید پڑھیے

درد تو زخم کی پٹی کے ہٹانے سے اٹھا

درد تو زخم کی پٹی کے ہٹانے سے اٹھا اور کچھ اور بھی مرہم کے لگانے سے اٹھا اس کے الفاظ تسلی نے رلایا مجھ کو کچھ زیادہ ہی دھواں آگ بجھانے سے اٹھا عہد ماضی بھی تو بے داغ نہیں کیوں کہیے پاسداری کا چلن آج زمانے سے اٹھا وجہ ممکن ہے کوئی اور ہو میں یہ سمجھا وہ تری بزم میں شاید مرے آنے سے ...

مزید پڑھیے

زخم تازہ برگ گل میں منتقل ہوتے گئے

زخم تازہ برگ گل میں منتقل ہوتے گئے پنجۂ سفاک میں خنجر خجل ہوتے گئے دید کے قابل تھا ان صحرا نوردوں کا جنوں منزلیں ملتی گئیں ہم مضمحل ہوتے گئے نور کا رشتہ سواد جسم سے کٹتا گیا ہم بھی آخر باد و آتش آب و گل ہوتے گئے خون میں اونچے چناروں کے نہ حدت آ سکی یوں بظاہر سبز پتے مشتعل ہوتے ...

مزید پڑھیے

چند مہمل سی لکیریں ہی سہی افشا رہوں

چند مہمل سی لکیریں ہی سہی افشا رہوں نوک خامہ پر برنگ روشنائی کیا رہوں کوئی شاید آ ہی جائے راستہ تکتا رہوں ایک سنگ میل بن جاؤں بہ چشم وا رہوں کھائی سے سب کو بچا لوں میں نہ کچلا جاؤں تو بن کے خطرہ کا نشاں رستے میں استادہ رہوں دشت تنہائی میں یادوں کے درندوں سے ڈروں بچ بچا کے بھیڑ ...

مزید پڑھیے

خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگ

خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگ عجب ہے اس کی نگاہوں میں انتظار کا رنگ عجب ہے رسم وفا اور اعتبار کا رنگ کہ دل میں بن کے دھڑکتا ہے اس کے پیار کا رنگ سکون دل کا ٹھکانا کہیں نہ مل پایا بسا ہوا ہے نگاہوں میں جو دیار کا رنگ لبوں پہ جھوٹا تبسم نمی سی آنکھوں میں عیاں ہے چہرے سے اس ...

مزید پڑھیے

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں آج بھی گزرے زمانوں میں رہوں رات ہے سر پر کوئی سورج نہیں کس لیے پھر سائبانوں میں رہوں کیا وسیلہ ہو مرے اظہار کا لفظ ہوں گونگی زبانوں میں رہوں کون دیکھے گا یہاں طاقت مری تیر ہوں ٹوٹی کمانوں میں رہوں بھیڑیے ہیں چار سو بپھرے ہوئے نیچے اتروں یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 279 سے 6203