جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ
جو حوصلہ ہو تو ہلکی ہے دوپہر کی دھوپ تنک مزاجوں کو لگتی ہے یوں قمر کی دھوپ مرے جنون قدم نے بڑا ہی کام کیا جو گرد راہ بڑھی کم ہوئی سفر کی دھوپ صفائے شیشۂ عارض پہ کھل گئی ہے شفق جو ان کے رخ پہ پڑی ہے مری نظر کی دھوپ شب وصال کی یہ شام بھی ہے رشک سحر مہک مہک کے سرکتی ہے بام و در کی ...