قومی زبان

ایوان تثلیث میں شمع وحدت جلے

اور جب ان کے اجداد کی سرزمیں جس کی آغوش میں وہ پلے تنگ ہونے لگی جب اصولوں کی پاکیزگی اور گندہ روایات میں جنگ ہونے لگی تو انہیں آسماں سے ہدایت ملی نیک بند تمہارے لیے یہ زمیں ایک ہے اس سفر میں تمہیں رزق کی فکر ہے کیا اناجوں کی گٹھری اٹھائے چرندوں پرندوں کو دیکھا کبھی زاد رہ نیک ...

مزید پڑھیے

پسپائی

مجھ کو بھی غصہ آتا ہے جب کوئی سائیکل والا اگلے پہیے سے کیچڑ کی اک چھاپ میری پتلون پہ دے دیتا ہے جب کوئی موٹر والا میرے منہ پر مڑ کے کے گڈھوں کے گندے پانی کے چھینٹے دے دیتا ہے جب کوئی کھلے ہوئے چھاتے کی کمائی سے سر میں ٹھوکا دیتا ہے جب فٹ پاتھ پہ میرے مقابل چلنے والا اونچے محلوں کے ...

مزید پڑھیے

وصل شیریں کے لیے

دور تکذیب کا فرہاد ہوں میری خاطر حق کی آواز صداقت کی اور شیریں ہے میرا منصب ہے حصول شیریں وصل شیریں کے لیے تیشہ اٹھاتا ہوں میں تیشۂ عزم و یقیں جو ابھی کند نہیں سینۂ سنگ ابھی خشک نہیں ہر رگ سنگ میں اک جوئے رواں پنہاں ہے میں کہ فرہاد ہوں رگ رگ میں مری شعلۂ قطرۂ خوں جولاں ہے میری گردن ...

مزید پڑھیے

حصول کل اور ایک منظر

وہ سال خوردہ چٹانیں جو آسماں کو چھوتے ہوئے بگولوں کی زد میں ثابت رہی ہیں اب ریگ زار میں منتقل ہوئی ہیں ہوا کے نازک خفیف جھونکے پہ مشتعل ہیں اڑی جو گرد تا قدم بھی تو ابر بن کے فلک پہ چھائی مگر جو سورج نے آنکھ مل کے اسے کریدا تو خاک ہو کر وہیں گری ہے ہوا کے رفتار کب رکی ہے بہاؤ دریا ...

مزید پڑھیے

اور نیچے نہ اتار و مرے سامع مجھ کو

آؤ آ جاؤ قریب آؤ کہ کچھ بات بنے اتنی دوری ہے کہ آواز پہنچتی ہی نہیں میں کسی غیر زباں کے الفاظ اپنے اشعار میں شامل تو نہیں کرتا ہوں دکھ تو اس بات کا ہے تم یہ سمجھتے ہی نہیں میرے سینے میں مچلتا ہے تمہارا دکھ بھی میرے الفاظ میں شامل ہے تمہاری آواز میرے جذبات میں خفتہ ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

ہاں وہ میں ہی تھا کہ جس نے خواب ڈھویا صبح تک

ہاں وہ میں ہی تھا کہ جس نے خواب ڈھویا صبح تک کون تھا وہ جو مرے بستر پہ سویا صبح تک رات بھر کمرے میں میں دبکا رہا اور آسماں میری فرقت میں مرے آنگن میں رویا صبح تک بلب روشن تھا اندھیرے کو اجازت تھی نہیں پھر بھی وہ بستر کے نیچے خوب سویا صبح تک لوگ اکڑی پیٹھ لے کر دفتروں سے چل ...

مزید پڑھیے

وجود اس کا کبھی بھی نہ لقمۂ تر تھا

وجود اس کا کبھی بھی نہ لقمۂ تر تھا وہ ہر نوالے میں دانتوں کے بیچ کنکر تھا الگ الگ تھے دل و ذہن بدنصیبوں کے عجیب بات ہے ہر دھڑ پہ غیر کا سر تھا نہ جانے ہم سے گلہ کیوں ہے تشنہ کاموں کو ہمارے ہاتھ میں مے تھی نہ دور ساغر تھا لہولہان ہی کر دیتا پائے لغزش کو ثبوت دیتا کہ وہ راستے کا ...

مزید پڑھیے

ہر گل تازہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرے

ہر گل تازہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کرے اس کی زلفوں تک پہنچنے کے لیے منت کرے دل بچائے یا سراہے آتش رخسار کو جس کا گھر جلتا ہو وہ شعلوں کی کیا مدحت کرے آم کے پھولوں کو خود ہی جھاڑ دے اور اس کے بعد بے ثمر شاخوں سے آوارہ ہوا حجت کرے شہر والوں کو بھی حاجت ہے اناجوں کی مگر خوش لباسی موسم ...

مزید پڑھیے

ماں کبھی مرتی نہیں ہے

کلام حیدری کی نذر ماں کبھی مرتی نہیں ہے خون ہے وہ جسم کی رگ رگ میں ہر دم موجزن ہے روشنی اس کے لبوں کی اس کے بیٹوں اور پھر بیٹوں کے بیٹیوں کے شگفتہ عارض و لب سے ہمیشہ پھوٹتی ہے روشنی کا یہ سفر رکتا نہیں ہے بھائی میرے اس قدر جل تھل نہ ہو تو قبر کی نمناک مٹی سے ابھرتی ایک بھر آئی ہوئی ...

مزید پڑھیے

سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے

سوکھے ہوئے پتوں میں آواز کی خوشبو ہے الفاظ کے صحرا میں تخیل کا آہو ہے جاتے ہوئے سورج کی اک ترچھی نظر ہی تھی تب شرم کا سندور تھا اب ہجر کا گیسو ہے مسحور فضا کیوں ہے مجبور صبا کیوں ہے رنگوں کے حصاروں میں نغمات کا جادو ہے موجوں سے الجھنا کیا طوفان سے گزرنا کیا ہر ڈوبنے والے کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 278 سے 6203