سیمیں بدن ہے وہ نہ گل نسترن ہے وہ
سیمیں بدن ہے وہ نہ گل نسترن ہے وہ پھر بھی ہمارے واسطے جان سخن ہے وہ جادو خیال آفریں دل دار و دل نشیں گلدستۂ بہار ہے سرو و سمن ہے وہ موسم سے ماورا ہے مرا پیکر خیال جس حال میں ہو اپنے لئے اک چمن ہے وہ روشن رکھا ہے مجھ کو اسی کے خیال نے تاریکیوں کے دشت میں لرزاں کرن ہے وہ چشم غزل سے ...