چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو
چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو وہ منتظر ہیں مرا ضبط آزمانے کو رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دکھانے کو اگرچہ بزم طرب میں ہوس کا غلبہ ہے میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو میں جا رہا ہوں وہاں جبکہ از رہ تفریح سجی ہے بزم مرا شوق آزمانے کو روش روش میں ...