قومی زبان

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو

چلا ہوں گھر سے میں احوال دل سنانے کو وہ منتظر ہیں مرا ضبط آزمانے کو رقیب ساتھ ہے اور زیر لب تبسم ہے عجب طرح سے وہ آیا ہے دل دکھانے کو اگرچہ بزم طرب میں ہوس کا غلبہ ہے میں آ گیا ہوں محبت کے گیت گانے کو میں جا رہا ہوں وہاں جبکہ از رہ تفریح سجی ہے بزم مرا شوق آزمانے کو روش روش میں ...

مزید پڑھیے

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے

وہ آفتاب میں ہے اور نہ ماہتاب میں ہے جو روشنی کہ ترے حس بے نقاب میں ہے چمن میں لالہ و گل شرمسار ہوتے ہیں عجب طرح کا اثر حس بے نقاب میں ہے میں اپنے عشق فراواں پہ ناز کرتا ہوں مرا کمال مرے حسن انتخاب میں ہے اجڑ گیا ہے مرا گلشن حیات مگر جنون شوق مرا عالم شباب میں ہے نجات اس کی بجز ...

مزید پڑھیے

چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر

چل دیا وہ اس طرح مجھ کو پریشاں چھوڑ کر موسم گل جیسے جائے ہے گلستاں چھوڑ کر گو بھروسا ہے مجھے اپنے خلوص شوق پر کون آئے گا یہاں جشن بہاراں چھوڑ کر وہ جو اپنے ساتھ لایا تھا گلستاں کی بہار جا رہا ہے اب کہاں وہ گھر کو ویراں چھوڑ کر یوں لگا مجھ کو کہ گویا حشر برپا ہو گیا یک بیک وہ چل ...

مزید پڑھیے

جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں

جب عاشقی میں میرا کوئی رازداں نہیں ایسی لگی ہے آگ کہ جس کا دھواں نہیں گو میں شریک بزم سر آسماں نہیں وہ راز کون سا ہے جو مجھ پر عیاں نہیں میں سوچتا ہوں زیست میں ناکام ہو گیا میرے خلوص شوق کا جب امتحاں نہیں میرا مقام عشق بتاں میں ہے بے مثال گو میں رہین‌ منت پیر مغاں نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے

چمن میں سیر گل کو جب کبھی وہ مہ جبیں نکلے مری تار رگ جاں سے صدائے آفریں نکلے سمجھ جاتا ہوں فوراً کیا ہے مطلب لن ترانی کا مری خواہش پہ جب پردے سے وہ پردہ نشیں نکلے فلک نے جب کیا حملہ مری شاخ نشیمن پر جو دشمن سامنے آئے وہ اپنے ہم نشیں نکلے وہ جن سے شہد مانگا تھا انہوں نے زہر دے ...

مزید پڑھیے

نہیں یہ رسم محبت کہ اشتباہ کرو

نہیں یہ رسم محبت کہ اشتباہ کرو کیا ہے عشق تو ہر حال میں نباہ کرو نہیں ہے عشق تو پھر زندگی میں کچھ بھی نہیں کسی سے عشق کرو اور بے پناہ کرو کروں گا میں تری محفل کی رونقیں دو چند میری طرف بھی اگر لطف کی نگاہ کرو سنا ہے سیر چمن کو وہ آ رہے ہیں آج جنون شوق کو بر وقت انتباہ کرو شعار‌ ...

مزید پڑھیے

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا

میرا وجود اس کو گوارا نہیں رہا یوں راہ زندگی میں سہارا نہیں رہا فرقت میں اس کی صبر و تحمل تھا عشق میں وہ آ گیا تو ضبط کا یارا نہیں رہا ہر لحظہ شوق حسن میں یہ بیقرار ہے اب میرا دل کے ساتھ گزارا نہیں رہا میں اضطراب عشق میں حد سے گزر گیا ایسا مرض بڑھا ہے کہ چارہ نہیں رہا محفل سے ...

مزید پڑھیے

میرے قبضے میں لب کشائی ہے

میرے قبضے میں لب کشائی ہے اب اسیری نہیں رہائی ہے باب گلشن کھلا جو اس سے ملے گل صد برگ آشنائی ہے اک مسلسل سفر میں رہتا ہوں مجھ کو شوق شکستہ پائی ہے ذکر اس کا رہے گا محشر تک جس نے آواز حق سنائی ہے ان کا دامن بھی آج تر دیکھا وہ جنہیں زعم پارسائی ہے منزلوں پر پہنچ کے رک جانا وجہ ...

مزید پڑھیے

گو مبتلائے گردش شام و سحر ہوں میں

گو مبتلائے گردش شام و سحر ہوں میں پھر بھی دیار عشق میں چیز دگر ہوں میں میں چاہتا ہوں جس کو وہ دلبر تم ہی تو ہو تم ڈھونڈتے ہو جس کو وہ اہل نظر ہوں میں پیر حرم کا قول ہے میں شب گزیدہ ہوں پیر مغاں کی رائے میں نور سحر ہوں میں اہل چمن کی کشمکش روزگار کی تاریکیٔ حیات میں مثل قمر ہوں ...

مزید پڑھیے

تابش چشم تر میں رہتے ہیں

تابش چشم تر میں رہتے ہیں عکس دیوار و در میں رہتے ہیں دفن ہو کر بھی جان سے پیارے دل کے ویراں نگر میں رہتے ہیں منزلوں سے نکل کے آگے ہم یاد کی رہ گزر میں رہتے ہیں کارواں کب ہمارے ساتھ رہا ہم تو تنہا سفر میں رہتے ہیں ان سے بار دگر نہیں نسبت وہ جو بار دگر میں رہتے ہیں کیوں مسیحا کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 275 سے 6203