قومی زبان

ستارے چپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے

ستارے چپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے شب خموش کے دل کی صدا سمندر ہے سکوت لب کو صداؤں کا پیش رو سمجھو کہ رود بار کے آگے کھلا سمندر ہے وہ دیکھتا ہے مرے اضطراب کو ہنس کر میں تیز رو ہوں وہ ٹھہرا ہوا سمندر ہے مہہ‌ و نجوم دکھاتے ہیں آئنہ اس کو فلک کے سامنے چہرہ نما سمندر ہے مٹا چلے ہیں ...

مزید پڑھیے

گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا شب کو اس کا شہر

گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا شب کو اس کا شہر چاروں اور تھا کالا جنگل بیچ میں اجلا شہر یاد نہ آتا کیوں گاؤں میں ہم کو بھی لاہور لوگ سمندر پار نہ پائیں اس سے اچھا شہر سچ ہے ہر اک ملک خدا کا دیس ہے ہر انساں کا لیکن اپنا شہر ہے یارو آخر اپنا شہر خواب میں سن کر جاگ اٹھتا ہوں ان کی چیخ ...

مزید پڑھیے

پانی پانی رہتے ہیں

پانی پانی رہتے ہیں خاموشی سے بہتے ہیں میری آنکھ کے تارے بھی جلتے بجھتے رہتے ہیں بیچارے معصوم دیے دکھ سانسوں کا سہتے ہیں جس کی کچھ تعبیر نہ ہو خواب اسی کو کہتے ہیں اپنوں کی ہمدردی سے دشمن بھی خوش رہتے ہیں مسجد بھی کچھ دور نہیں وہ بھی پاس ہی رہتے ہیں

مزید پڑھیے

یوں ہی ہم درد اپنا کھو رہے ہیں

یوں ہی ہم درد اپنا کھو رہے ہیں یہی رونا ہے ہم کیوں رو رہے ہیں قیامت خواب سے آنکھیں کھلی تھیں پھر آنکھیں کھول کر ہم سو رہے ہیں بہت زرخیز سیلاب بلا تھا یہاں اب خوب فصلیں بو رہے ہیں ہوائے وصل نے وہ خاک اڑائی ابھی تک ہاتھ منہ ہم دھو رہے ہیں دیے سارے بدن میں تیرتے ہیں کیوں اتنا پانی ...

مزید پڑھیے

برگزیدہ ہیں ہواؤں کے اثر سے ہم بھی

برگزیدہ ہیں ہواؤں کے اثر سے ہم بھی دیکھتے ہیں تجھے دنیا کی نظر سے ہم بھی اپنے رستے میں بڑے لوگ تھے رفتار شکن اور کچھ دیر میں نکلے ذرا گھر سے ہم بھی رات اس نے بھی کسی لمحے کو محسوس کیا لوٹ آئے کسی بے وقت سفر سے ہم بھی سب کو حیرت زدہ کرتی ہے یہاں بے خبری چونک پڑتے تھے یوں ہی پہلے ...

مزید پڑھیے

خوشی سے اپنا گھر آباد کر کے

خوشی سے اپنا گھر آباد کر کے بہت روئیں گے تم کو یاد کر کے خیال و خواب بھی ہیں سر جھکائے غلامی بخش دی آزاد کر کے جو کہنے کے لیے ہی آبرو تھی وہ عزت بھی گئی فریاد کر کے پرندے سر پہ گھر رکھے ہوئے ہیں مجھے چھوڑیں گے یہ صیاد کر کے یہاں ویسے بھی کیا آباد رہتا یہ دھڑکا تو گیا برباد کر ...

مزید پڑھیے

دل لگا کر پڑھائی کرتے رہے

دل لگا کر پڑھائی کرتے رہے عمر بھر امتحاں سے ڈرتے رہے ایک ادنیٰ ثواب کی خاطر جانے کتنے گناہ کرتے رہے جان پر کون دم نہیں دیتا صورت ایسی تھی لوگ مرتے رہے کوئی بھی راہ پر نہیں آیا حادثے ہی یہاں گزرتے رہے حیرتیں حیرتوں پہ وارفتہ جھیل میں ڈوبتے ابھرتے رہے آخرش ہم بھی اتنا سوکھ ...

مزید پڑھیے

اشارے مدتوں سے کر رہا ہے

اشارے مدتوں سے کر رہا ہے ابھی تک صاف کہتے ڈر رہا ہے بچانا چاہتا ہے وہ سبھی کو بہت مرنے کی کوشش کر رہا ہے سمندر تک رسائی کے لیے وہ زمانے بھر کا پانی بھر رہا ہے کہیں کچھ ہے پرانے خواب جیسا مری آنکھوں سے ظالم ڈر رہا ہے زمانے بھر کو ہے امید اسی سے وہ ناامید ایسا کر رہا ہے

مزید پڑھیے

وہ بحر و بر میں نہیں اور نہ آسماں میں ہے

وہ بحر و بر میں نہیں اور نہ آسماں میں ہے جو راز زیست مرے شوق بیکراں میں ہے مجھے قرار بجز شوق‌‌‌ بے قرار نہیں سکون زیست مجھے شوخئ بتاں میں ہے مجھے قبول نہیں ایسا راز سر بستہ جو چشم عقل سے پوشیدہ لا مکاں میں ہے مری حیات فقط جستجوئے پیہم ہے مرا مقام ستاروں کے کارواں میں ہے میں ...

مزید پڑھیے

زلف خم دار میں نور رخ زیبا دیکھو

زلف خم دار میں نور رخ زیبا دیکھو چشم بددور مرا حسن تمنا دیکھو اب وہ آرائش گیسو سے ہوا ہے فارغ اب اگر ہمت موسیٰ ہو تو جلوہ دیکھو بہر دیدار کرو دیدۂ مجنوں پیدا جرأت شوق سے پھر جلوۂ لیلیٰ دیکھو آج پھر شوق دل زار کی قسمت جاگی آج پھر اس نے مجھے پیار سے دیکھا دیکھو نگہ لطف سے دیکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 274 سے 6203