قومی زبان

جہان تنگ میں تنہا ہوا میں

جہان تنگ میں تنہا ہوا میں بہت اچھا ہوا رسوا ہوا میں مری آنکھوں کا پہچانا ہوا تو نگاہ دہر کا دیکھا ہوا میں ابھر آئی ہوا کی موج سر میں حریف‌ موجۂ دریا ہوا میں جبین آب کی تحریر دنیا حروف سنگ سے لکھا ہوا میں فنا کے ہاتھ میں میری بقا ہے خود اپنی خاک سے پیدا ہوا میں ہوئی وابستہ مجھ ...

مزید پڑھیے

اسی کی دھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مرا

اسی کی دھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مرا جو آ کے خواب میں در کھٹکھٹا گیا ہے مرا گزر گیا ہے جو پہلو بچا کے مجھ سے تو کیا نظر جھکا کے وہ گھر دیکھتا گیا ہے مرا ہوں مضطرب تری گم گشتہ آرزو کے لیے دکان دل سے در بے بہا گیا ہے مرا اسیر گنبد بے در پڑا ہوں مدت سے مرے ہی دل پہ وہ پہرہ بٹھا گیا ...

مزید پڑھیے

تیرہ و تار زمینوں کے اجالے دریا

تیرہ و تار زمینوں کے اجالے دریا ہم نے صحراؤں کے سینے سے نکالے دریا وادیاں آئیں تو آرام سے سو جاتے ہیں فاصلوں سے نہ کبھی ہارنے والے دریا چاہتے تھے کہ پھریں روئے زمیں پر ہر سو بن گئے راہ میں غاروں کے نوالے دریا تجھ سے چھٹنے پہ ترے دھیان کی آغوش ملی کر گیا مجھ کو سمندر کے حوالے ...

مزید پڑھیے

بساط شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں

بساط شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں ہوا کے رنگ برابر بدلتے رہتے ہیں بتان رنگ بھی کچھ کم نہیں ہیولوں سے قدم قدم پہ یہ پیکر بدلتے رہتے ہیں چھپائے چھپتی نہیں ان سے کہنگی دل کی نئے لباس وہ ہر دم بدلتے رہتے ہیں رہی نہیں کبھی یک رنگ آسماں کی جبیں حروف لوح مقدر بدلتے رہتے ہیں قیام کرتا ...

مزید پڑھیے

وہی لڑکی وہی لڑکا پرانا

وہی لڑکی وہی لڑکا پرانا کہیں ہوتا ہے یہ قصہ پرانا اکیلے پن میں اب اک تازگی ہے ہوا جاتا ہے ہر رشتہ پرانا جہان عقل کا انسان جاہل نیا جغرافیہ نقشہ پرانا جہاں دیکھو وہی فرسودہ منظر جدھر نکلو وہی رستہ پرانا نیا شاعر بھی الجھا ہے زباں میں یہ استادوں سے بھی نکلا پرانا نہ اکتاؤ جو ...

مزید پڑھیے

کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح

کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح ترا خیال ہے اڑتی ہوئی خبر کی طرح نہیں ہے تاب نظر کم عیار آنکھوں میں چمک رہا ہے وہ چہرہ دکان‌ زر کی طرح ہٹے گی گرد مہ و سال کس کے ہاتھوں سے زمانہ بند پڑا ہے قدیم در کی طرح خیال غیر نکلتا نہیں مرے دل سے کسی کے گھر میں یہ بیٹھا ہے اپنے گھر کی ...

مزید پڑھیے

زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے

زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے کون یہاں پر میلے کپڑے دھوتا ہے جس کے دل میں ہریالی سی ہوتی ہے سب کے سر کا بوجھ وہی تو ڈھوتا ہے سطحی لوگوں میں گہرائی ہوتی ہے یہ ڈوبے تو پانی گہرا ہوتا ہے صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے دکھ ہوتا ہے وقت رواں کے ٹھہرنے ...

مزید پڑھیے

بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے

بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے شرارت کرتے ہم شیطان ہوتے سمٹ آئی ہے اک کمرے میں دنیا تو بچے کس طرح نادان ہوتے کسی دن عقدۂ مشکل بھی کھلتا کبھی ہم پر بھی تم آسان ہوتے خطا سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں فرشتے بن گئے انسان ہوتے ہر اک دم جاں نکالی جا رہی ہے ہم اک دم سے کہاں بے جان ہوتے

مزید پڑھیے

آئینے مد مقابل ہو گئے

آئینے مد مقابل ہو گئے درمیاں ہم ان کے حائل ہو گئے کچھ نہ ہوتے ہوتے اک دن یہ ہوا سیکڑوں صدیوں کا حاصل ہو گئے کشتیاں آ کر گلے لگنے لگیں ڈوب کر آخر کو ساحل ہو گئے اور احساس جہالت بڑھ گیا کس قدر پڑھ لکھ کے جاہل ہو گئے اپنی اپنی راہ چلنے والے لوگ بھیڑ میں آخر کو شامل ہو گئے تندرستی ...

مزید پڑھیے

ہے میرے سر سے کوئی بوجھ اتارنے والا

ہے میرے سر سے کوئی بوجھ اتارنے والا پکارتا ہے یہ ہر دم پکارنے والا پھرا ہے یوں وہ رخ آئنہ نما مجھ سے کوئی نہیں میری صورت سنوارنے والا بنا ہوں سینۂ دریا کا بوجھ مدت سے کوئی رہا ہی نہیں پار اتارنے والا بدلتی جاتی ہے حالت زمیں کے چہرے کی کہ آسماں ہے نیا روپ دھارنے والا اتر کے کار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 273 سے 6203