قومی زبان

سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں

سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں جتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میں میرے ہی دم قدم سے ہیں قائم یہ نغمہ خوانیاں گلزار ہست و بود کا طوطیٔ خوش بیاں ہوں میں مجھ ہی میں ضم ہیں جان لے دریا تمام دہر کے قطرہ نہ تو مجھے سمجھ اک بحر بیکراں ہوں میں نازاں ہے خد و خال پر ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے ہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئے ہم نے کھلے کواڑ پہ دستک سنی مگر وہ کون لوگ تھے کہ جو آ کر پلٹ گئے در بند ہی رکھو کہ ہواؤں کا زور ہے اب کے کھلے کواڑ تو سمجھو کہ پٹ گئے غارت گریٔ زور تلاطم ارے غضب کشتی کے بادبان ہواؤں سے پھٹ گئے صحرا کی تیز ...

مزید پڑھیے

چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوں

چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوں لوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوں جادۂ حوادث میں چل کے دیکھ لے کوئی کیسے طے کیا ہم نے موت کا سفر برسوں برگ و بار پر اس کے حق نہیں ہمارا ہی اپنے خون سے سینچا ہم نے جو شجر برسوں جو صدف سمندر کی تہہ میں چھان سکتے تھے ڈھونڈتے رہے وہ بھی ...

مزید پڑھیے

طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزل

طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزل جب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزل جب بھی دن ڈوبا ہوئی فکر سخن لاحق مجھے شام ہوتے ہی مرے ساغر میں در آئی غزل یاد جب آئے مجھے بچھڑے ہوئے ساتھی مرے کانپتے ہونٹوں کی ہر سلوٹ پہ لہرائی غزل پھول سی آنکھوں میں انگارے لیے پھرتا ہوں میں رات ...

مزید پڑھیے

مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرح

مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرح ثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرح غور سے پڑھ رہا ہوں زمانے تجھے اپنے محبوب کے پہلے خط کی طرح وہ ہمیشہ نگاہوں میں تنہا رہا صاف پانی میں شفاف بط کی طرح ہم نے پتھر سے ہیرے تراشے ظفرؔ دست قدرت کے بے مثل قط کی طرح

مزید پڑھیے

خشک لمحات کے دریا میں بہا دے مجھ کو

خشک لمحات کے دریا میں بہا دے مجھ کو مرگ احساس کی سولی پہ چڑھا دے مجھ کو کون آ کر ترے انصاف کا مصداق بنے بے گناہی پہ اگر تو نہ سزا دے مجھ کو ایک پل میں یہ مرا رنگ اڑا دیتے ہیں راس آتے نہیں خوش رنگ لبادے مجھ کو یوں مجھے دیکھ کے چہرہ نہ چھپا ہاتھوں سے میں ترا جسم برہنہ ہوں قبا دے ...

مزید پڑھیے

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی زندگی کرنا ہے انگاروں پہ چل کر دیکھنا اپنے مخلص دوستوں پر وار میں کیسے کروں کوئی ...

مزید پڑھیے

نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیں

نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیں پڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیں پڑا ہوا ہوں سر رہ گزر تو رہنے دے تری گلی سے زیادہ تو گھر عزیز نہیں فقیر شہر کو لعل و گہر سے کیا نسبت مرے عزیز مجھے مال و زر عزیز نہیں پھلوں کو لوٹ کے لے جاؤ پیڑ مت کاٹو شجر عزیز ہے مجھ کو ثمر عزیز نہیں وہ لوگ ...

مزید پڑھیے

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں میری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوں آئے گا اک دن مرے اڑنے کا موسم آئے گا بس اسی امید پر میں اپنے بال و پر میں ہوں جسم کی رعنائیوں میں ڈھونڈتے ہو تم مجھے اور میں کب سے تمہاری روح کے پیکر میں ہوں دیکھتے ہیں سب نظر آتی ہوئیں ...

مزید پڑھیے

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو ایسے بھی تم خواب نہ دیکھو ڈوب رہے سورج میں یارو دن کی آب و تاب نہ دیکھو ہرجائی ہیں لوگ یہاں کے اس بستی کے خواب نہ دیکھو اندر سے ہم ٹوٹ رہے ہیں باہر کے اسباب نہ دیکھو فن دیکھو بس ملاحوں کا دریا کے سیلاب نہ دیکھو سچے سپنے دو آنکھوں کو جھوٹے ہوں وہ خواب نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 272 سے 6203