قومی زبان

دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو

دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو بڑی مشکل سے سمجھایا ہے دل کو ترے غم نے جو چمکایا ہے دل کو مثال آئنہ پایا ہے دل کو تری الفت میں اے جان تمنا زمانے بھر سے ٹکرایا ہے دل کو خرد سے بے تعلق ہو گئے جب جنوں کی راہ میں پایا ہے دل کو زہے قسمت کہ حق گوئی کا جذبہ مقام دار تک لایا ہے دل کو کسی نے ...

مزید پڑھیے

کلیوں کی چٹک گل کی ہنسی اور زیادہ

کلیوں کی چٹک گل کی ہنسی اور زیادہ آئے تیرے حصہ میں خوشی اور زیادہ آ جائے ان آنکھوں میں نمی اور زیادہ ہو جائے مرے دل کی لگی اور زیادہ کچھ دل کی تڑپ بڑھ گئی منزل پہ پہنچ کر کچھ روح بھی بیتاب ہوئی اور زیادہ ساقی نے جو مخمور نگاہوں سے نوازا صہبا مرے ساغر میں ڈھلی اور زیادہ پھر جاگ ...

مزید پڑھیے

یہ مان لو کہ غم ہے ضروری خوشی کے بعد

یہ مان لو کہ غم ہے ضروری خوشی کے بعد اک تیرگی کا دور ہے اس روشنی کے بعد اے دل یہ اضطراب ترے کام آئے گا مل جائے گا سکون تجھے بیکلی کے بعد جب تبصرہ کریں وہ مرے واقعات پر دیوانگی کی بات چھڑے آگہی کے بعد دنیا سنوارنی ہے تو عقبیٰ کی فکر کر اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد آباد ہو ...

مزید پڑھیے

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا کرم کرے گا مرے حال پر مگر پہلے شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا شگفتگیٔ چمن پر بہت غرور نہ کر خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا گیا وہ دور کہ جب خار بھی مہکتے تھے یہ دور وہ ہے جو پھولوں کو ناس کر دے گا وہ ...

مزید پڑھیے

بات مہندی سے لہو تک آ گئی

بات مہندی سے لہو تک آ گئی گفتگو اب تم سے تو تک آ گئی اب وہ شغل چاک دامانی کہاں اب طبیعت تو رفو تک آ گئی جان جائے یار ہے اب ڈر نہیں بات اپنی آبرو تک آ گئی آرزو تھی جس کو پانے کی ہمیں جستجو اس آرزو تک آ گئی بوٹے بوٹے سے نمایاں ہے بہار ڈالی ڈالی رنگ و بو تک آ گئی وصل کی شب اور اتنی ...

مزید پڑھیے

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا اپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلا قتل سے پہلے ذرا چیخوں پہ اک مقتول کی کچھ دریچے تو کھلے لیکن نہ کوئی در کھلا تنگ ہو جائے زمیں بھی اب تو کوئی غم نہیں ہم فقیروں کے لئے ہے آسماں سر پر کھلا آدمی کے ظاہر و باطن میں کتنا فرق ہے آج دوران ...

مزید پڑھیے

پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا

پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا لیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گا حالات جب بھی شہر کے فلمائے جائیں گے پردے پہ میرے قتل کا منظر بھی آئے گا بے چہرہ پھر رہا ہوں مگر اس یقیں کے ساتھ آئینہ میرے قد کے برابر بھی آئے گا کب تک کوئی چھپے گا عداوت کے غار میں دشمن کبھی تو سامنے کھل کر بھی ...

مزید پڑھیے

سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھ

سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھ برف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھ مٹی کے پیالوں میں ہر دن صبح سے اپنی شام کریں رنگ برنگے پھولوں سے گلدان سجانے والے ہاتھ ایسے تھے حالات کہ چھوٹا ان کا میرا ساتھ مگر یاد بہت آتے ہیں وہ چوڑی کھنکانے والے ہاتھ دفتر سے میں ...

مزید پڑھیے

زوال فکر کو ذہنوں کی تیرگی کہتے

زوال فکر کو ذہنوں کی تیرگی کہتے جو بات ہم نے کہی ہے وہ آپ بھی کہتے فراز دار پہ روداد زندگی کہتے خدا شناس جو ہوتے تو واقعی کہتے ترس رہے ہیں جو راحت کی زندگی کے لئے وہ کیسے غم کو مسرت کی زندگی کہتے اب ایسے لوگ زمانہ سے اٹھ گئے شاید تمہارے غم کو جو سرمایۂ خوشی کہتے یہ فکر نو کے ...

مزید پڑھیے

بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہے

بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہے شخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہے گو ہمہ وقت نئی لگتی ہے دنیا لیکن شے پرانی ہو تو بوسیدہ سی ہو جاتی ہے کون ہے وہ کہ جسے موند لوں آنکھیں دیکھوں آنکھ کھل جائے تو پوشیدہ سی ہو جاتی ہے کھیل ہی کھیل میں لڑکی وہ شرارت والی بات ہی بات میں سنجیدہ سی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 271 سے 6203