دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو
دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو بڑی مشکل سے سمجھایا ہے دل کو ترے غم نے جو چمکایا ہے دل کو مثال آئنہ پایا ہے دل کو تری الفت میں اے جان تمنا زمانے بھر سے ٹکرایا ہے دل کو خرد سے بے تعلق ہو گئے جب جنوں کی راہ میں پایا ہے دل کو زہے قسمت کہ حق گوئی کا جذبہ مقام دار تک لایا ہے دل کو کسی نے ...