قومی زبان

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے مری حق بات کو وہ قابل تشکیک سمجھے ہے بہت مشکل ہے جو اس کی غریبی دور ہو جائے عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے مرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید بیاں توصیف کرتا ہوں تو وہ تضحیک سمجھے ہے ترے خط تیری تصویریں شکستہ دل کے کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا جو دل کا زخم تھا وہ ہی صحیح کر ڈالا شب سیاہ کا چہرہ اداس دیکھا تو نکل کے چاند نے اس کو ملیح کر ڈالا ذرا سا جھانک کے تاریکیوں سے سورج نے ملیح چہرۂ شب کو صبیح کر ڈالا میں کیسے عقل کا پیکر سمجھ لوں انساں کو خود اپنی زیست کو جس نے قبیح کر ڈالا کل اس نے ...

مزید پڑھیے

دنیائے فکر نو کا تمنائی بن گیا

دنیائے فکر نو کا تمنائی بن گیا ہر آدمی حیات کا شیدائی بن گیا جب سے دل ان کی زلف کا سودائی بن گیا میرے لیے وہ باعث رسوائی بن گیا وہ دل جو اپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا سچ تو یہ ہے کہ مرکز دانائی بن گیا طوفان غم سے کھیلے گا وہ کس طرح بھلا ساحل پہ بیٹھ کر جو تماشائی بن گیا اس غم پہ ہوں ...

مزید پڑھیے

وجد میں موج صبا ہے شاید

وجد میں موج صبا ہے شاید پھر کوئی نغمہ سرا ہے شاید دل مسرت سے جدا ہے شاید وہ نظر مجھ سے خفا ہے شاید قافلہ بھٹکا ہوا ہے شاید راہزن راہنما ہے شاید اس طرح زہر غم دل پینا جرم الفت کی سزا ہے شاید رہرو شوق کو منزل نہ ملی راستہ بھول گیا ہے شاید تیرے احساس کا اے جان وفا آئنہ ٹوٹ گیا ہے ...

مزید پڑھیے

لیجئے اب راز دل افشا ہوا

لیجئے اب راز دل افشا ہوا ہر طرف باتیں ہوئیں چرچا ہوا مجھ پہ بھی طاری تھی جیسے بے خودی وہ بھی تھا جیسے کہیں کھویا ہوا تیرے بن جینا کسے منظور تھا زندگی سے ایک سمجھوتہ ہوا خانۂ دل میں چراغ آرزو ہے کبھی جلتا کبھی بجھتا ہوا اس کی رنگت پر کھلے ہر اک لباس روپ اس کا ہے عجب نکھرا ...

مزید پڑھیے

بظاہر انجمن آرائیاں ہیں

بظاہر انجمن آرائیاں ہیں وہی غم ہے وہی تنہائیاں ہیں بلندی پر سنبھل کر پاؤں رکھنا بہت گہری یہاں پر کھائیاں ہیں کہاں گم ہو گیا بچپن ہمارا وہی جھولے وہی امرائیاں ہیں تری یادوں کی مدھم روشنی ہے سکوت شام ہے تنہائیاں ہیں ضمیرؔ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں یہاں پر جا بجا رسوائیاں ہیں

مزید پڑھیے

مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب

مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب کھنکتا لہجہ سلگتا ہوا نیا اسلوب تلاش اور تجسس کے باوجود ہمیں وہ چیز مل نہ سکی جو ہے وقت کو مطلوب کوئی بھی آنکھ وہاں تک پہنچ نہیں سکتی چھپا کے رکھے ہیں تو نے جہاں مرے مکتوب ابھی تو آس کے آنگن میں کچھ اجالا ہے سلونے چاند جدائی کے بادلوں میں نہ ...

مزید پڑھیے

زخم کا جو مرہم ہوتے ہیں

زخم کا جو مرہم ہوتے ہیں لوگ ایسے اب کم ہوتے ہیں سورج ڈوب کے پھر ابھرے گا کیوں اتنے ماتم ہوتے ہیں کمسن لفظوں کے سینوں میں گہرے مطلب کم ہوتے ہیں لمحہ لمحہ عمر خوشی کی صدیاں صدیاں غم ہوتے ہیں پہلے آپ سمندر سے دریا خود ہی ضم ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

تری نگاہ کا یہ انقلاب دیکھا ہے

تری نگاہ کا یہ انقلاب دیکھا ہے دل و نظر میں عجب اضطراب دیکھا ہے کبھی تو عشق میں یہ انقلاب دیکھا ہے کہ اپنے آپ کو ہی بے حجاب دیکھا ہے زمین شہر وفا کیوں نہ ہو فلک کا جواب ہر ایک ذرہ یہاں آفتاب دیکھا ہے جو بے مثال ہے دنیا میں عشق پروانہ تو حسن شمع کو بھی لا جواب دیکھا ہے دیا ہے جس ...

مزید پڑھیے

انسان کو ملتے ہیں نئی بات کے پتھر

انسان کو ملتے ہیں نئی بات کے پتھر ٹکراتے ہیں جس وقت خیالات کے پتھر احساس پہ گرتے ہیں جو اوقات کے پتھر جذبوں کو کچل دیتے ہیں حالات کے پتھر جب پیار کی راہوں میں قدم اس نے بڑھایا مجنوں کو بھی مارے گئے دن رات کے پتھر کعبہ ہو یا کاشی ہو ذرا غور سے دیکھو عظمت کی نشانی ہیں مقامات کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 270 سے 6203