امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے
امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے مری حق بات کو وہ قابل تشکیک سمجھے ہے بہت مشکل ہے جو اس کی غریبی دور ہو جائے عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے مرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید بیاں توصیف کرتا ہوں تو وہ تضحیک سمجھے ہے ترے خط تیری تصویریں شکستہ دل کے کچھ ...