کماں پہ چڑھ کے بہ شکل خدنگ ہونا پڑا
کماں پہ چڑھ کے بہ شکل خدنگ ہونا پڑا حریف امن سے مصروف جنگ ہونا پڑا یہاں تھی دشمنی انساں سے پیار پتھر سے مجھے بھی آخرش اک روز سنگ ہونا پڑا حسد کی آگ میں جل جل کے لوگ مرنے لگے مجھے سمیٹ کے وسعت کو تنگ ہونا پڑا رہا جو بر سر پیکار میں مقدر سے تو اس حریف کو حیران و دنگ ہونا ...