قومی زبان

کماں پہ چڑھ کے بہ‌ شکل خدنگ ہونا پڑا

کماں پہ چڑھ کے بہ‌ شکل خدنگ ہونا پڑا حریف امن سے مصروف جنگ ہونا پڑا یہاں تھی دشمنی انساں سے پیار پتھر سے مجھے بھی آخرش اک روز سنگ ہونا پڑا حسد کی آگ میں جل جل کے لوگ مرنے لگے مجھے سمیٹ کے وسعت کو تنگ ہونا پڑا رہا جو بر سر پیکار میں مقدر سے تو اس حریف کو حیران‌ و دنگ ہونا ...

مزید پڑھیے

جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا فنا ہوتے ہی لافانی میں میں تبدیل ہو جاتا مرے پیچھے اگر ابلیس کو آنے نہ دیتا تو سراپا میں ترے ہر حکم کی تعمیل ہو جاتا جو ہوتا اختیار اپنے مقدر کو بدلنے کا تمناؤں کی میں اک صورت تکمیل ہو جاتا مجھے پہچان کر کوئی زمانے کو بتا دیتا تو مثل نکہت ...

مزید پڑھیے

ہندو مسلم کے لئے کوئی سزا کیوں مانگوں

ہندو مسلم کے لئے کوئی سزا کیوں مانگوں ظلم انسان پہ ہو ایسی دعا کیوں مانگوں لاکھ مجبور سہی پھر بھی کروں گا نہ سوال مانگنا جن سے گنہ ہے تو بھلا کیوں مانگوں ذکر کرتا ہوں گناہوں کی تلافی کے لئے ہوش رکھتا ہوں بھلا کوئی خطا کیوں مانگوں میری تقدیر میں پاکیزہ ہوا ہے شامل ہر کسی پیڑ سے ...

مزید پڑھیے

وصف شفا دواؤں میں حکم خدا سے ہے

وصف شفا دواؤں میں حکم خدا سے ہے یہ سوچنا غلط ہے کہ سب کچھ دوا سے ہے پیالہ بھرا جو غم کا وہ میری خطا سے ہے پت جھڑ سے ہے گلہ نہ شکایت ہوا سے ہے یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ در در کی خاک چھان جنت کا سیدھا راستہ ماں کی دعا سے ہے مجبور ہو گیا ہے ضعیفی میں جو شجر اس کا یہ حال اپنے پھلوں کی خطا ...

مزید پڑھیے

پہلے دل میں جمال پیدا کر

پہلے دل میں جمال پیدا کر آپ اپنی مثال پیدا کر چھوڑ تنقید غیر پر کرنا اپنے فن میں کمال پیدا کر راہ روشن نہ دیکھ اوروں کی اپنے گھر سے اجال پیدا کر جس سے سرشار ہو ادب اپنا نغمۂ لا زوال پیدا کر راہ جنت جو تیرے دل میں ہے سب کے دل میں خیال پیدا کر تجھ پر آفت نہ کوئی آئے گی روزی اپنی ...

مزید پڑھیے

یہ ضروری نہیں ہے جہاں دیکھنا

یہ ضروری نہیں ہے جہاں دیکھنا وہ جدھر کو چلے بس وہاں دیکھنا ان کی قسمت میں تھی ایسی منظر کشی پنکھڑی سے لبوں پر دھواں دیکھنا کوئی آتا نہیں کوئی جاتا نہیں ایسا سنسان کوئی نشاں دیکھنا پیڑ نے اپنے پھل کو سکھایا نہیں دوسروں کے گھروں میں اماں دیکھنا لے گیا جو بچھڑ کے ملا تھا ...

مزید پڑھیے

لاکھ اونچی سہی اے دوست کسی کی آواز

لاکھ اونچی سہی اے دوست کسی کی آواز اپنی آواز بہر حال ہے اپنی آواز اب کنویں پر نظر آتا نہیں پیاسوں کا ہجوم تیرے پازیب کی کیا ٹوٹ کے بکھری آواز وہ کسی چھت کسی دیوار سے روکے نہ رکی گرم ہونٹوں کے تصادم سے جو ابھری آواز لوگو سچ مت کہو سچ کی نہیں قیمت کوئی کسی دیوانے کی سناٹے میں ...

مزید پڑھیے

سرحد

سرحد کے اس پار جو کل کچھ خون کہ چھینٹیں آئی تھیں سرحد کے اس پار کہ تھیں یا سرحد کے اس پار کہ تھیں سرحد کے اس پار جو کل ایک خاموشی چھائی تھی سرحد کے اس پار ہی تھی یا سرحد کے اس پار بھی تھی سرحد کے اس پار جو کل کچھ ذہن زخمی زخمی تھے سرحد کے اس پار ہی تھے یا سرحد کے اس پار بھی تھے کل ...

مزید پڑھیے

خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی

خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی سامنے اک کوزہ گر کے چاک پر ہیں آج بھی یہ نہ جانا کس طرف سے آئی چنگاری مگر تہمتیں ساری خس و خاشاک پر ہیں آج بھی جس تکبر کی بدولت چھن گئے ان کے حقوق اس کے اثرات رعونت ناک پر ہیں آج بھی میں نے رتی بھر نظام فکر کو بدلا نہیں منحصر افکار سب ادراک پر ...

مزید پڑھیے

راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں

راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں ہم نے اپنی خاطر ہی خود عذاب ڈھونڈے ہیں یہ تو اس کی عادت ہے روز گل مسلتا ہے آج بھی مسلنے کو کچھ گلاب ڈھونڈے ہیں رات آندھی آنے پر اڑ گئے تھے خیمے سب غافلوں نے مشکل سے کچھ طناب ڈھونڈے ہیں تیری حکمرانی بھی ختم ہونے والی ہے ہم نے کچھ کتابوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 269 سے 6203