قومی زبان

کسی طرف جانے کا رستہ کہیں نہیں

کسی طرف جانے کا رستہ کہیں نہیں ایسا گھور اندھیرا دیکھا کہیں نہیں کس ظالم نے پر پیڑوں کے کاٹ دیے آگ اگلتی دھوپ میں سایہ کہیں نہیں تشنہ روح کی پیاس بجھانے پہنچے تھے دریا میں بھی پانی پایا کہیں نہیں کانچ کی صورت سارے سپنے ٹوٹ گئے چھم سے برسنے بادل آیا کہیں نہیں محفل محفل اظہرؔ ...

مزید پڑھیے

میرے خورشید و قمر آئے نہیں

میرے خورشید و قمر آئے نہیں ظلمتوں کے چارہ گر آئے نہیں فصل گل کی خاصیت کو کیا ہوا شاخ دل پر برگ و بر آئے نہیں خستہ سامانی ہماری دیکھنے لوگ آتے تھے مگر آئے نہیں میں فقط باغوں کا رکھوالا رہا میرے حصے میں ثمر آئے نہیں گدلے جوہڑ چیتھڑوں سی بستیاں اہل دل کیا اس نگر آئے نہیں

مزید پڑھیے

دم نیم شب کل فضا سو رہی ہے

دم نیم شب کل فضا سو رہی ہے خراماں خراماں ہوا سو رہی ہے شکستہ ستاروں کو نیند آ رہی ہے حزیں ٹمٹماتی ضیا سو رہی ہے مکمل خموشی ہے ہر رقص گہ میں لب چنگ و نے پر نوا سو رہی ہے زمیں سے فلک تک فلک سے زمیں تک برنگ تخیل دعا سو رہی ہے نہ جانے کہاں عشق سستا رہا ہے کہاں زندگی کی ادا سو رہی ...

مزید پڑھیے

دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں

دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں کوئی منظر کوئی چہرہ خوش نما لگتا نہیں دھندلے دھندلے اجنبی سے لوگ آتے ہیں نظر مدتوں کا آشنا بھی آشنا لگتا نہیں سخت مشکل ہو گیا ہے امتیاز خوب و زشت پھول سی پوشاک میں بد خو برا لگتا نہیں لوٹ کر آتے نہیں کیوں آشیانوں کی طرف بھولے بھالے ...

مزید پڑھیے

ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے

ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے جام کو جام سے ٹکراؤ کہ کچھ رات کٹے کھائے جاتی ہے یہ تنہائی یہ تاریکئ شب دو گھڑی کے لئے آ جاؤ کہ کچھ رات کٹے چپ تمہاری مجھے دیوانہ بنا دیتی ہے آج للہ نہ شرماؤ کہ کچھ رات کٹے ہاں یہ وعدہ رہا اب پھر نہیں روکیں گے کبھی آج کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات ...

مزید پڑھیے

ترے ناز و ادا کو تیرے دیوانے سمجھتے ہیں

ترے ناز و ادا کو تیرے دیوانے سمجھتے ہیں حقیقت شمع کی کیا ہے یہ پروانے سمجھتے ہیں مکمل وارداتیں ہیں مرے گزرے زمانے کی حقائق سے جو ناواقف ہیں افسانے سمجھتے ہیں جنوں کے کیف و کم سے آگہی تجھ کو نہیں ناصح گزرتی ہے جو دیوانوں پہ دیوانے سمجھتے ہیں تری مخمور آنکھوں کو کوئی کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

آج پھر ان سے ملاقات پہ رونا آیا

آج پھر ان سے ملاقات پہ رونا آیا بھولی بسری ہوئی ہر بات پہ رونا آیا غیر کے لطف و عنایات پہ رونا آیا اور اپنوں کی شکایات پہ رونا آیا عقل نے ترک تعلق کو غنیمت جانا دل کو بدلے ہوئے حالات پہ رونا آیا اہل دل نے کئے تعمیر حقیقت کے ستوں اہل دنیا کو روایات پہ رونا آیا ہم نہ سمجھے تھے کہ ...

مزید پڑھیے

تری جستجو تری آرزو مجھے کام تیرے ہی کام سے

تری جستجو تری آرزو مجھے کام تیرے ہی کام سے تو ہی زندگی کا ہے مدعا مرا نام تیرے ہی نام سے ترا حسن ہے مری زندگی ترا عشق ہے مری عاشقی تری فکر ہے مری شاعری ترا ذکر میرے کلام سے ترے حسن نے یہ غضب کیا کہ ہر اہل دل ہوا مبتلا جسے دیکھا تیرا ہی صید تھا نہ کوئی بچا ترے دام سے گئی آدھی رات ...

مزید پڑھیے

اے دل تری آہوں میں اتنا تو اثر آئے

اے دل تری آہوں میں اتنا تو اثر آئے جب یاد کروں ان کی تصویر نظر آئے ہر چند حسیں تھے تم ہر چند جواں تھے تم پر عشق کے سائے میں کچھ اور نکھر آئے میں کھیل سمجھتا تھا مجھ کو یہ خبر کیا تھی کیا جانئے کب میرے دل میں وہ اتر آئے اس حسن کے جلووں نے کچھ سحر کیا ایسا نظروں میں نہ میری پھر کچھ ...

مزید پڑھیے

دل ہے بیمار کیا کرے کوئی

دل ہے بیمار کیا کرے کوئی کس طرح سے دوا کرے کوئی جب کہ تم بن کہیں قرار نہ ہو پھر بتاؤ کہ کیا کرے کوئی وہ نہ اپنی روش کو بدلیں گے چاہے جو کچھ کہا کرے کوئی طاقتوں نے مری جواب دیا اب بتاؤ کہ کیا کرے کوئی بڑھتی جاتی ہیں دھڑکنیں دل کی آ بھی جائے خدا کرے کوئی ان کو فرصت کہاں سنورنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 268 سے 6203