قومی زبان

کائناتی گرد میں برسات کی ایک شام

ویسے تو پہاڑ زمین کا سکڑا ہوا لباس ہیں لیکن جب بارش ہوتی ہے ان کی سلوٹوں پر اجلاہٹ اگ آتی ہے سانپ کی دم سی سڑک پر چلتے ہوئے موسم مجھے اپنی کنڈلی میں قید کر لیتا ہے لہر در لہر منقسم پہاڑوں کا حسن رنگوں کی اس دھندلاہٹ میں پوشیدہ ہے جسے ہماری بیمار آنکھیں کبھی منعکس نہیں کر ...

مزید پڑھیے

محرم عشق ہیں ہونٹوں کو سیے بیٹھے ہیں

محرم عشق ہیں ہونٹوں کو سیے بیٹھے ہیں شیشۂ دل میں کئی داغ لئے بیٹھے ہیں ماہ و انجم پہ پہنچ کر بھی نہیں رکتی نظر رخ کسی اور ہی منزل کا کئے بیٹھے ہیں اب تو کچھ اور ہی عالم ہے فروغ غم سے صورت جاں ترے ہر غم کو لئے بیٹھے ہیں بھولتا ہی نہیں اس نرگس شہلا کا کرم ایک مے ہے کہ شب و روز پئے ...

مزید پڑھیے

صبا کو لے کے حریم چمن سے نکلی ہے

صبا کو لے کے حریم چمن سے نکلی ہے وہ اک ادا کہ ترے بانکپن سے نکلی ہے لجا کے خود سے نہاں ہو گئی ہے پھولوں میں شمیم خوش کہ ترے پیرہن سے نکلی ہے بہ رنگ نور جھلکتی ہے ماہ و انجم میں ضیا جو تیری جبیں کی کرن سے نکلی ہے لطیف تر ہو سبک تر ہو ناز پرور ہو مہک یہ اپنے علاوہ سمن سے نکلی ...

مزید پڑھیے

اب کہاں لطف بہاراں کے زمانے باقی

اب کہاں لطف بہاراں کے زمانے باقی اب کہاں سوسن و سنبل کے فسانے باقی ایک کیفیت حسرت ہے افق تک طاری اب کہاں مطرب بلبل کے ترانے باقی اب کسی سمت بھی لہراتی نہیں زلف شمیم مشک و عنبر کے کہاں اب وہ ٹھکانے باقی خاک ہر راہ میں آوارہ ہے وحشت بن کر اب مسرت کے کہاں سبز خزانے باقی اب تصور ...

مزید پڑھیے

سکون دل نہ سہی جوش اضطراب تو ہے

سکون دل نہ سہی جوش اضطراب تو ہے حساب تیری عنایت کا بے حساب تو ہے یہاں قیام مسرت کا نقش کیسے ملے جہاں مصائب پیہم کا ایک باب تو ہے فسانہ دل کا پہنچتا ہے دیکھیے ان تک نگاہ شوق سر بزم بے حجاب تو ہے قفس اداس فضا دم بخود چمن ویراں بقدر درد فغاں آج کامیاب تو ہے خدا کا شکر کہ اظہرؔ بہ ...

مزید پڑھیے

جاگے جو خواب غم سے پھر نیند ہی نہ آئی

جاگے جو خواب غم سے پھر نیند ہی نہ آئی دہشت کے زیر و بم سے پھر نیند ہی نہ آئی معلوم ہی نہیں کچھ ہم کیسے سو گئے تھے ڈر کر رخ ستم سے پھر نیند ہی نہ آئی تاروں سے رابطے کچھ قائم رہے ہمہ شب اس شغل مغتنم سے پھر نیند ہی نہ آئی گونجی سکوت شب میں آواز جانے کس کی ہم کو تو خوف غم سے پھر نیند ہی ...

مزید پڑھیے

آ گیا پھر بہار کا موسم

آ گیا پھر بہار کا موسم حسن کے کاروبار کا موسم کس ادا سے سنور کے آیا ہے رنگ لیل و نہار کا موسم اہل دل کے لیے پلٹ آیا فرصت انتظار کا موسم خود بخود پھول بے حجاب ہوئے جوش میں ہے نکھار کا موسم اب کھلے گا بھرم وفاؤں کا رنگ لائے گا پیار کا موسم کیوں نہ ہو ذکر گل رخاں اظہرؔ اوج پر ہے ...

مزید پڑھیے

فرقت کی شب فضا پہ اداسی محیط ہے

فرقت کی شب فضا پہ اداسی محیط ہے گلزار پر ہوا پہ اداسی محیط ہے مغموم ماہ و گل ہیں پریشاں ہے چاندنی فطرت کی ہر ادا پہ اداسی محیط ہے تارے چمک رہے ہیں پر اپنے خیال میں تاروں کی کل ضیا پہ اداسی محیط ہے آ جاؤ اب خدا کے لئے بہر اتصال معمورۂ وفا پہ اداسی محیط ہے اظہرؔ کو آج دیکھ تو لو ...

مزید پڑھیے

آپ پر جب سے طبیعت آئی

آپ پر جب سے طبیعت آئی روز و شب مجھ پہ قیامت آئی ہائے برباد کیا ہے کیا کیا راس ہم کو نہ محبت آئی اے ہوس کار تری نظروں میں کب بھلا میری حقیقت آئی زندگی بیت گئی ہے یوں ہی جب بھی آئی شب فرقت آئی ظلم گو اس نے بہت بار کئے لب پہ میرے نہ شکایت آئی تیری خاطر سے جہاں کو چھوڑا پھر بھی تجھ ...

مزید پڑھیے

ڈال سے کوئل اڑ جاتی ہے

پتلے پتلے ہونٹوں پر ہیں آنکھوں جیسی موٹی باتیں ایسی باتیں کیوں کرتے ہو زلفیں سپنے پھول اور جذبے اچھا ہاں اک بات بتاؤ کل تم اتنے چپ چپ کیوں تھے خاموشی سے یوں لگتا تھا جیسے سپنے ٹوٹ رہے ہوں مجھے خبر ہے میری خاطر تم نے کیا کیا کوکتے کوکتے ڈال سے کوئل اڑ جاتی ہے من کا مندر ریزہ ریزہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 267 سے 6203