تضاد کی کاشت
میں نے کئی رنگ کے سائے سونگھے ہیں مگر دیواروں پر کندہ کیے پھولوں میں کبھی خوشبو نہیں مہکی محبت روح میں تب اترتی ہے جب غموں کی ریت اور آنسوؤں سے ہم اپنے اندر شکستگی تعمیر کرتے ہیں جس قدر بھی ہنس لو نجات کا کوئی راستہ نہیں تم محبت کے گنہ گار ہو سو غم تمہاری ہڈیوں میں پھیلا ہوا ...