قومی زبان

تضاد کی کاشت

میں نے کئی رنگ کے سائے سونگھے ہیں مگر دیواروں پر کندہ کیے پھولوں میں کبھی خوشبو نہیں مہکی محبت روح میں تب اترتی ہے جب غموں کی ریت اور آنسوؤں سے ہم اپنے اندر شکستگی تعمیر کرتے ہیں جس قدر بھی ہنس لو نجات کا کوئی راستہ نہیں تم محبت کے گنہ گار ہو سو غم تمہاری ہڈیوں میں پھیلا ہوا ...

مزید پڑھیے

میرا غصہ کہاں ہے؟

میں آسمان کے ساتھ پھیلی شام کی نارنجی روشنی ہوں یا سورج کی آنکھ میں رینگتی سرخ دھار؟ کیا ہے میرا وجود؟ یوم عید قربان ہوتی بھیڑوں کا صبر یا ہیروں کے تعاقب میں کوئلہ کوئلہ پھرتی خواہش؟ میں سرما میں ابابیلوں کی مرجھائی روح ہوں یا سرمست درختوں کی چوٹیوں میں مدہوش ہوا؟ ہاں۔۔۔۔۔ میں ...

مزید پڑھیے

میرا کوئی دوست نہیں

چیخیں مجھے کبھی رہا نہیں کرتیں مجھے معلوم ہے ہر منظر میں ایک چیخ چھپی ہے میں جہاں بھی جاتا ہوں کوئی نہ کوئی چیخ مجھے پہچان لیتی ہے میں اپنی خاموشی کی مخالف سمت خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگتا ہوں اسی بوکھلاہٹ میں چیخوں کے کئی جھنڈ مجھے بھڑوں کی طرح گھیر لیتے ہیں بھاگتے ہوئے میں ...

مزید پڑھیے

وقت کے نام ایک خط

زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے جو خواب مجھے آج دیکھنا تھا وہ اگلی پیدائش تک ملتوی کرنا پڑا ہے بچپن میں لگے زخم پر مرہم رکھنے کے لیے ڈاکٹر نے ابھی صرف وعدہ کیا ہے کل کے لیے سانسیں کماتے ہاتھ صبح تک چائے نہیں پی سکتے لیکن گھبراؤ نہیں سب کی یہی حالت ہے وہ بتا رہی تھی اس نے اپنی سہاگ رات تب ...

مزید پڑھیے

اظہار کا متروک راستہ

اظہار محبت کے لیے لازمی نہیں کہ پھول خریدے جائیں کسی ہوٹل میں کمرہ لیا جائے یا پرندے آزاد کیے جائیں اظہار محبت کے لیے تم اپنے بوسے کاغذ میں لپیٹ کر بھیج سکتی ہو جس طرح میں نے اپنے جذبے تمہیں پوسٹ کر دیے ہیں

مزید پڑھیے

میں کس لئے ہوں میں کیا ہوں کیوں آ گیا ہوں یہاں

میں کس لئے ہوں میں کیا ہوں کیوں آ گیا ہوں یہاں بہ روئے آئینہ کب سے کھڑا ہوں میں حیراں بڑی عریض و وسیع ہے بہت کشادہ ہے ہے تنگ دستوں پہ پھر تنگ کیوں فضائے جہاں جھلک دکھا کے اچانک سدھار جاتا ہے مثال خواب حسیں ہے حقیقت انساں میں سر نگوں ہی رہا غایت ندامت سے پلٹ گئی مرے پاس آ کے رحمت ...

مزید پڑھیے

ایک ہی راستہ

مرے یار تیرا مرا ایک ہی راستہ ہے کہ پلکوں سے صحرا بہ صحرا چمکدار ذرات چن کر شرابور مٹھی میں محفوظ کرتے رہیں اور سر شام پھیلا کے ان کو ہتھیلی پہ دیکھیں کہ آیا کوئی ریزۂ زر بھی حاصل ہوا یا نہیں کتاب مقدر بھی نقش اضافہ نہ اترے تو بطن تفکر کو امید کے نان شیریں سے بھر کر شگفتہ شعاعوں ...

مزید پڑھیے

نیا سال

نیا سال آیا کوئی بھی نہ تحفہ ہمارے لئے حسب معمول لایا خدا جانے کب تک ہم ان دشت ہاتھوں میں کشکول امید تھامے بشارت کی خیرات پانے کی خاطر صف صبر میں ایستادہ رہیں گے

مزید پڑھیے

میری بربادیوں کی یہ تصویر

میری بربادیوں کی یہ تصویر گردش وقت کی ہے ایک لکیر حسن تدبیر کی نگاہوں سے دیکھ تو اپنے بخت کی تحریر دور کر دے دلوں کی تاریکی اے جمال خلوص کی تنویر تم سمجھتے ہو جن کو میر چمن زلف حرص و ہوا کے ہیں وہ اسیر کھا رہا ہوں فریب آزادی دیکھ کر پاؤں کی نئی زنجیر جھوٹی توقیر کے لیے ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم گرا کر بکھر نہ جاؤں میں

فصیل جسم گرا کر بکھر نہ جاؤں میں یہی خیال ہے جی میں کہ گھر نہ جاؤں میں بدن کے تپتے جہنم میں خواہشوں کا سفر اسی سفر کے بھنور میں اتر نہ جاؤں میں ہوئی تمام مسافت اس ایک خواہش میں کہ اب وہ لاکھ بلائے مگر نہ جاؤں میں بکھیر دیتا ہے کچھ اور جب بھی ملتا ہے اسے تو وہم یہی ہے سنور نہ جاؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 266 سے 6203