قومی زبان

تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے

تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے گویا کوئی تصویر خیالوں میں جڑی ہے ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے احساس فراواں ہے کہ ساون کی جھڑی ہے ہے وصل کا ہنگام کہ سیلاب تجلی طوفان ترنم ہے کہ الفت کی گھڑی ہے تہذیب الم کہیے کہ عرفان غم ذات کہنے کو تو دو لفظ ہیں ہر بات بڑی ہے سایہ ہو شجر ...

مزید پڑھیے

تپش سے پھر نغمۂ جنوں کی سرود و چنگ و رباب ٹوٹے

تپش سے پھر نغمۂ جنوں کی سرود و چنگ و رباب ٹوٹے کسی حقیقت کے ایک سنگ گراں سے ٹکرا کے خواب ٹوٹے حیات کی جوئے درد و غم میں سفینے امید و آرزو کے بشکل موج نسیم ابھرے برنگ جسم حباب ٹوٹے سنا رہی ہیں وفا کی راہیں شکست پرواز کا فسانہ کہ دور تک وادیٔ طلب میں پڑے ہیں ہر سمت خواب ٹوٹے برہنہ ...

مزید پڑھیے

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں خودبخود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں چاند چہرے کہ ہیں گم وقت کے سناٹے میں ہم مگر ان کو بھلا پائیں ضروری تو نہیں جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دنیا ساری ہم انہیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں تشنگی حد سے سوا اور سفر جاری ہے پر سرابوں سے ...

مزید پڑھیے

تھوکا ہوا آدمی

زندگی نے مجھے لکیر پر چلنا سکھایا میں نے منحرف ہونا سیکھ لیا اس کی اندام نہانی سانپ جننے میں مصروف رہی اور وہ انہیں مارنے میں وہ بھی کیا کرتی رات بھر میری جگہ اژدہام سویا رہا اپنی بے کاری سے تنگ آ کر میں اپنا عضو نیلا کرنے چلا آیا ایسا کرنا جرم ہے مگر کیا کیا جائے ایک بھوک مٹانے ...

مزید پڑھیے

نیم لباسی کا نوحہ

تمہاری محبت کو زندگی دینے کے لیے میں نے تو اپنے سارے بت توڑ لیے مگر تم نے جواباً اپنے کعبے پر غلاف چڑھا لیا فقط طواف سے میری تشفی نہیں ہو سکتی میں کیسے تمہارے اندر جھانکوں بے بسی نے مجھے مینڈک بنا دیا ہے میں اپنی ذات کے کنویں میں پڑا ہوں اور خواہش میرے خون میں رسی کی طرح لٹک رہی ...

مزید پڑھیے

ایک عوامی نظم

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بھوک ہماری راتیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یوم آزادی پر لوگ پھلجھڑیاں نہیں اپنی ...

مزید پڑھیے

میں اچھا فن کار نہیں

پرندے مجھ سے دانا ہیں اپنی معصومیت زندہ رکھنے کے لیے ہجرت کر جاتے ہیں لومڑیاں اپنا دشمن پہچان لیتی ہیں بھیڑیں اپنی اون سے خواب بنتی رہتی ہیں لوگ اپنے مالکوں کی لعنت سمیٹ کر بھی ان کے قدم ماپتے رہتے ہیں جیسے بھی ہو زندہ رہنا ایک فن ہے زندگی کے کھیل میں اب تک میں اضافی کردار ہی ...

مزید پڑھیے

ہرما فروڈٹ

اس کو شک تھا خدا نے دو آدھے جسم عموداً جوڑ کے اس کو تعمیر کیا ہے جس میں اک حصہ اپنا اور ایک پرایا ہے وہ آدھے آدھے دو جسموں کا حاصل ہے وہ اکثر رات کے کالے چہرے سے ڈر جاتا تو اپنی ہی گود میں چھپ کر رونے لگتا خود سے باتیں کرتا دیواروں سے سر ٹکراتا اپنی تکمیل کی خاطر دونوں آدھے جسموں ...

مزید پڑھیے

ادھوری موت کا کرب

اس نے مجھ سے محبت کی میں نے اسے اپنا سینہ چھونے کو کہا اس نے میرا دل چوم کر مجھے امر کر دیا میں نے اس سے محبت کی اس نے مجھے دل چومنے کو کہا میں نے اس کا سینہ چھو کر اسے ہدایت بخشی ہم دونوں جدا ہو گئے جدائی نے ہمارے خواب زہریلے کر دیے یک سانسی موت اب ہماری پہلی ترجیح ہے تنہائی کا ...

مزید پڑھیے

چور دروازہ کھلا رہتا ہے

میرے خواب زخمی ہوئے تو دنیا کے سارے ضابطے جھوٹے لگے میں نے زندگی کے لیے بھیک مانگی مگر آباد لمحوں کی پوجا کے لیے وقت کبھی میرے لیے نہ رکا مجھے ویسٹ پن سے اپنائیت محسوس ہوئی لوگ کاغذوں سے بنے کھلونے تھے جنہیں ہمیشہ خلاف مرضی ناچنا پڑا بھیگے ساحلوں کی ہوا میں خون ہی خون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 265 سے 6203