تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے
تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے گویا کوئی تصویر خیالوں میں جڑی ہے ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے احساس فراواں ہے کہ ساون کی جھڑی ہے ہے وصل کا ہنگام کہ سیلاب تجلی طوفان ترنم ہے کہ الفت کی گھڑی ہے تہذیب الم کہیے کہ عرفان غم ذات کہنے کو تو دو لفظ ہیں ہر بات بڑی ہے سایہ ہو شجر ...