قومی زبان

سنگ جاں

آب خفتہ میں اک سنگ پھینکا تو ہے دائرے سطح ساکت پہ ابھرے ہیں پھیلیں گے مٹ جائیں گے اور وہ سنگ جاں اپنی یہ داستاں زیر بار جمود گراں ایک سنگ ملامت کی مانند دہرائے گا

مزید پڑھیے

بوئے گل رقص میں ہے باد خزاں رقص میں ہے

بوئے گل رقص میں ہے باد خزاں رقص میں ہے یہ زمیں رقص میں ہے سارا جہاں رقص میں ہے روح سرشار ہے اور چشم تخیل بیدار بعد مدت کے وہی شعلۂ جاں رقص میں ہے جل اٹھے ذہن کے ایوان میں لفظوں کے چراغ آج پھر گرمئ انداز بیاں رقص میں ہے پھر کسی یاد کی کشتی میں رواں ہیں لمحات جوئے دل رقص میں ہے ...

مزید پڑھیے

مارا ہمیں اس دور کی آساں طلبی نے

مارا ہمیں اس دور کی آساں طلبی نے کچھ اور تھے اس دور میں جینے کے قرینے ہر جام لہو رنگ تھا دیکھا یہ سبھی نے کیوں شیشۂ دل چور تھا پوچھا نہ کسی نے اب حلقۂ گرداب ہی آغوش سکوں ہے ساحل سے بہت دور ڈبوئے ہیں سفینے ہر لمحۂ خاموش تھا اک دور پر آشوب گزرے ہیں اسی طور سے سال اور مہینے ماضی کے ...

مزید پڑھیے

کہاں تک کاوش‌ اثبات پیہم

کہاں تک کاوش‌ اثبات پیہم کہاں تک زخم دل تدبیر مرہم سکوت شب ہجوم ناامیدی شمار داغ ہائے زیست اور ہم کبھی عالم غبار چشم حیراں کبھی وہ اک نگہ اور ایک عالم بڑھاؤ جرأت افکار کی لو ابھی ہے گرمی‌ٔ بزم جنوں کم دہکنے دو ابھی داغوں سے محفل چھلکنے دو ابھی پیمانۂ غم یہ کس منزل پہ لے ...

مزید پڑھیے

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے آگ لگ جائے سمندر میں تو پانی برسے سرخ مٹی کی ردا اوڑھے ہے کب سے آکاش نہ شفق پھولے نہ رم جھم کہیں بادل برسے ہم کو کھینچے لیے جاتے ہیں سرابوں کے بھنور جانے کس وقت میں ہم لوگ چلے تھے گھر سے کس کی دہشت ہے کہ پرواز سے خائف ہیں طیور قمریاں شور مچاتی نہیں ...

مزید پڑھیے

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی گراں گزرنے لگی ان کی مہربانی بھی کس اہتمام سے پڑھتے رہے صحیفۂ زیست چلیں کہ ختم ہوئی اب تو وہ کہانی بھی لکھو تو خون جگر سے ہوا کی لہروں پر یہ داستاں انوکھی بھی ہے پرانی بھی کسی طرح سے بھی وہ گوہر طلب نہ ملا ہزار بار لٹائی ہے زندگانی بھی ہمیں سے ...

مزید پڑھیے

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں نگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار نہیں ہمیشہ وعدے کئے اب کے مل ہی جا آ کر حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں دکھاتی اپنی محبت کو چیر کر سینہ مگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیں مری بہن مری ...

مزید پڑھیے

زخمی خوابوں کی تیسری دنیا

صدر مملکت نے اپنی دولت کو ضرب لگائی اور پرائے ملک میں ایک قبر کرائے پر لے لی تاکہ اس کی لاش محفوظ رہے روشنی نے دنیا کا سفر کیا مگر کسی عدالت میں انصاف نہ ملا کہ اندھے ترازو نے تو کبھی آنکھیں ہی نہیں کھولیں دیواریں تمام رات جاگتی رہیں سامان پڑا رہا لیکن گھروں سے لڑکیاں چرا لی ...

مزید پڑھیے

تم جا چکی ہو

میرا دل دیر تک سوئے ہوئے منہ کی باس تھا جہاں تم خود رو پھول بن کر کھل اٹھی تھیں تمہارا منور وجود میری تاریک روح میں سرما کی دھوپ بنا تمہاری آنکھوں کی نمی سے کئی بہاروں نے خمار پیا جوتوں سے گری مٹی سے بنے میرے ہاتھ تمہاری تراشیدہ گولائیوں سے مل کر جنت کی جھیل بن گئے تمہارے سینے سے ...

مزید پڑھیے

ہم اضافی مٹی سے بنے

روشنی قتل ہوئی تو جسم خالی ہو گئے زندگی کا غبار ہی ہمارا حاصل ہے ہم نے پرائے گھروں کی راج گیری کی اور اپنی چھت کے خواب دیکھے ہمیں کب معلوم تھا سوئی دکانوں کی سیڑھیاں ہمارا تکیہ ہیں ہمارے نام اضافی مٹی پر لکھے گئے اور ہم فقط لوگوں کو دہراتے رہے ہم بے احتیاط لمحوں کا قصاص نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 264 سے 6203