یہ خوابوں کے سائے
یہ خوابوں کے سائے مری نیند کی شانت وادی میں کس طرح آئے کسی اور دنیا کے موہوم پیکر کسی اور جنگل کی شاخوں کے سائے پر اسرار جذبوں کی بارش میں بھیگے نہائے گریزاں کئی ساعتوں کو اٹھائے مرے پاس آئے مگر میں بڑھی جب بھی ان دھندلے خاکوں کو مٹھی میں بھرنے وہ غائب ہوئے پیچ کھاتے ہوئے اک گھنی ...