قومی زبان

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا میں چپ رہا تو شکستہ مکان بولے گا ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دے ترے خلاف ہر اک بے زبان بولے گا ہماری چیخ کبھی بے اثر نہیں ہوگی زمیں خموش سہی آسمان بولے گا جو تم ثبوت نہ دوگے عذاب کے دن کا گواہ بن کے یہ سارا جہان بولے گا کبھی تو آئے گا وہ وقت بھی ...

مزید پڑھیے

سمٹے ہوئے جذبوں کو بکھرنے نہیں دیتا

سمٹے ہوئے جذبوں کو بکھرنے نہیں دیتا یہ آس کا لمحہ ہمیں مرنے نہیں دیتا قسمت مری راتوں کی سنورنے نہیں دیتا وہ چاند کو اس گھر میں اترنے نہیں دیتا کرتی ہے سحر زرد گلابوں کی تجارت معیار ہنر زخم کو بھرنے نہیں دیتا بادل کے سوا کون ہے ہمدرد رفیقو ترشول سی کرنوں کو بکھرنے نہیں ...

مزید پڑھیے

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے رت جگے بھی عذاب ہونے لگے حسن کی محفلوں کا وزن بڑھا جب سے ہم باریاب ہونے لگے ہے عجب لمس ان کے ہاتھوں کا سنگ ریزے گلاب ہونے لگے اب پگھلنے لگے ہیں پتھر بھی رابطے کامیاب ہونے لگے میرا سچ بولنا قیامت تھا کیسے کیسے عتاب ہونے لگے ذکر تھا ان کی بے وفائی ...

مزید پڑھیے

زور سے تھوڑی اسے پکارا کرنا ہے

زور سے تھوڑی اسے پکارا کرنا ہے ہم نے تو بس ایک اشارا کرنا ہے بیٹا بیٹی کا حصہ کیوں کھا جائے میں نے خود ان میں بٹوارا کرنا ہے بہت زیادہ بولنے والی لڑکی کو دیواروں کے ساتھ گزارا کرنا ہے ورنہ اک دن لے ڈوبے گا وہ ہم کو اس دریا سے جلد کنارہ کرنا ہے یہ جو اسے ہر بات پہ غصہ آتا ہے ہم نے ...

مزید پڑھیے

چیز جو بھول کر گئی ہوئی تھی

چیز جو بھول کر گئی ہوئی تھی لوٹنے پر وہیں پڑی ہوئی تھی باپ اور بھائیوں کے ہوتے ہوئے اپنے پیروں پہ خود کھڑی ہوئی تھی کتنے گھنٹوں کا خواب دیکھنا ہے ہاتھ میں تو گھڑی بندھی ہوئی تھی میں نے احباب سے کنارہ کیا مجھ کو پیسوں کی جب کمی ہوئی تھی کئی سالوں میں برقعہ چھوٹا تھا بڑی مشکل ...

مزید پڑھیے

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی روشنی کی کمی کو سمجھوں گی ایک پتھر سے دوستی کر کے آپ کی بے رخی کو سمجھوں گی میں چراغوں کو طاق پر رکھ کر حاصل زندگی کو سمجھوں گی اس بدن کا طلسم ٹوٹے تو پھول کی تازگی کو سمجھوں گی لوگ کہتے ہیں جب مجھے بے حس میں بھلا کیوں کسی کو سمجھوں گی فون پر بات ...

مزید پڑھیے

آپ کو کیوں نہیں لگا پتھر

آپ کو کیوں نہیں لگا پتھر کیسے ناکام ہو گیا پتھر لڑکیاں خامشی سے بیٹھی ہوئیں ہائے وہ بولتا ہوا پتھر ٹوٹنا ٹھوکروں سے بہتر تھا پھول کیا سوچ کر بنا پتھر آئینے ٹوٹ کر بکھر بھی گئے اور وہ ڈھونڈھتا رہا پتھر میرے حصے میں سختیاں آئیں ہر کسی نے مجھے کہا پتھر ایک ہی زندگی میں دوسرا ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں

حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں تمہارے خواب سے خود کو نہیں جگاتی میں وہ فاختہ کی علامت اگر سمجھ جاتا تو اس کے سامنے تلوار کیوں اٹھاتی میں جناب واقعی میں نے کہیں نہیں جانا وگرنہ آپ کی گاڑی میں بیٹھ جاتی میں پھر ایک دم مرے پیروں میں گر گئے کچھ لوگ قریب تھا کہ کوئی فیصلہ سناتی ...

مزید پڑھیے

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے آ گئے یاد مجھ کو خواب مرے ایک پہلو میں سو رہے ہیں وہ ایک پہلو میں ہے کتاب مرے ناپ لیں گے اب اور کتنی بار کپڑے سی دیجئے جناب مرے عشق اگر رائیگاں ہوا تو کیا آج بچے ہیں کامیاب مرے ویسے بھی آپشن نہیں تھا کوئی بن گئے تم ہی انتخاب مرے مرے گالوں تک آ گیا ...

مزید پڑھیے

حکایت گریزاں

میں کہ لا انتہا وقت کی رہ گزر پر صرف اک لمحۂ مختصر میں کہ احساس و افکار کے بحر ذخار میں صرف اک قطرہ مضطرب میں کہ صحرائے ہستی کی تپتی ہوئی ریت پر صرف اک ذرہ سرنگوں میں کہ اک وسعت کائنات حسیں میں صرف اک نقطۂ بے سکوں میں وہ قطرہ کہ جس میں سمندر کی بیتابیاں موجزن ہیں وہ لمحہ جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 262 سے 6203