قومی زبان

ہمارا ہو کے بھی کب اپنے بس میں رہتا ہے

ہمارا ہو کے بھی کب اپنے بس میں رہتا ہے یہ دل ہمیشہ تری دسترس میں رہتا ہے اسے شرابی نہ سمجھو کہ صبح ہوتے ہی وہ مندروں کے سنہرے کلس میں رہتا ہے ہے اعتبار سے بے اعتبار سرحد تک وہ فاصلہ جو مرے ہم نفس میں رہتا ہے تمنا یہ ہے کہ کچھ لمحے دل کے نام کریں مگر دماغ کہ حرص و ہوس میں رہتا ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے گم ہوا پرتو

کون کہتا ہے گم ہوا پرتو لحظہ لحظہ ہے آئینہ پرتو ہر طرف چھا گیا ہے اک جلوہ جانے کس کا یہ پڑ گیا پرتو نقش پلکوں پہ جب ہوا روشن اپنی آنکھوں میں بھر لیا پرتو میرے اندر نہاں ہے عکس مرا آئینے میں ہے آپ کا پرتو ڈر رہا ہے ذکیؔ اندھیروں سے کھو نہ جائے کہیں ترا پرتو

مزید پڑھیے

نور یہ کس کا بسا ہے مجھ میں

نور یہ کس کا بسا ہے مجھ میں روشنی حد سے سوا ہے مجھ میں حرف حق کی سی صدا ہے مجھ میں کون یہ بول رہا ہے مجھ میں کس نے دستک در دل پر دی ہے شور یہ کیسا بپا ہے مجھ میں روز سنتا ہوں میں ہنسنے کی صدا کون یہ میرے سوا ہے مجھ میں کیا ملے گی مرے فن کی مجھے داد کچھ زیادہ ہی انا ہے مجھ میں مستقل ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے

ترے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے حیات کس سے کہوں کیسے اب گزرتی ہے گمان ہوتا ہے مجھ کو تمہارے آنے کا ہوا ادھر سے دبے پانوں جب گزرتی ہے ہمارا کیا ہے کسی طور کٹ ہی جائے گی سکوں سے ان کی تو شام طرب گزرتی ہے مجھے وہ لمحہ قیامت سے کم نہیں ہوتا کوئی کراہ سماعت سے جب گزرتی ہے گزر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا

میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا رہ گزار شوق کا ایک اک نشاں روشن ہوا اجنبی خوشبو کی آہٹ سے مہک اٹھا بدن قہقہوں کے لمس سے خوف خزاں روشن ہوا پھر مرے سر سے تیقن کا پرندہ اڑ گیا پھر مرے احساس میں تازہ گماں روشن ہوا جانے کتنی گردنوں کی ہو گئیں شمعیں قلم تب کہیں جا کر یہ تیرہ خاک ...

مزید پڑھیے

بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی

بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی نہیں ہے تیر سے خالی یہاں کمان کوئی تھیں آزمائشیں جتنی تمام مجھ پہ ہوئیں نہ بچ کے جائے گا اب مجھ سے امتحان کوئی یہ طوطا مینا کے قصے بہت پرانے ہیں ہمارے عہد کی اب چھیڑو داستان کوئی نئے زمانے کی ایسی کچھ آندھیاں اٹھیں رہا سفینے پہ باقی نہ بادبان ...

مزید پڑھیے

دریدہ جیب گریباں بھی چاک چاہتا ہے

دریدہ جیب گریباں بھی چاک چاہتا ہے وہ عشق کیا ہے جو دامن کو پاک چاہتا ہے مرے غموں سے سروکار بھی وہ رکھے گا میری خوشی میں جواب اشتراک چاہتا ہے پھر آج شرط لگائی ہے دل نے وحشت سے پھر آج دامن احساس پاک چاہتا ہے وہ تنگ آ کے زمانے کی سرد مہری سے تعلقات میں پھر سے تپاک چاہتا ہے تمام ...

مزید پڑھیے

رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر

رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر دیوار سے ٹھہرا تھا کوئی کان لگا کر تو خواب ہے یا کوئی حقیقت نہیں معلوم کرتی ہوں میں تصدیق ابھی بتی جلا کر مائل تھی میں خود اس کی طرف کیا پتا اس کو وہ مجھ سے مخاطب ہوا رومال گرا کر ملنے کے لئے کیسی جگہ ڈھونڈھ لی تم نے میں چھو بھی نہیں سکتی تمہیں ...

مزید پڑھیے

گل پوش بام و در ہیں مگر گھر میں کچھ نہیں

گل پوش بام و در ہیں مگر گھر میں کچھ نہیں یہ سب نظر کا نور ہے منظر میں کچھ نہیں موجوں کا اضطراب ہو یا گوہر حیات احساس کا فسوں ہے سمندر میں کچھ نہیں پرچھائیوں کا ناچ ہے ویران صحن میں آسیب شب ہے اور مرے گھر میں کچھ نہیں منزل سے بے نیاز چلے جا رہے ہیں لوگ بھٹکے ہوؤں کی آنکھ کے پتھر ...

مزید پڑھیے

تو بے وفا ہے ترا اعتبار کون کرے

تو بے وفا ہے ترا اعتبار کون کرے تمام عمر ترا انتظار کون کرے بہت دنوں سے میں خوش فہمیٔ وصال میں ہوں جو تو نہیں تو مجھے بے قرار کون کرے سنائیں حال بھی دل کا اگر سنے کوئی سنے نہ جب کوئی چیخ و پکار کون کرے وہ آئے یا کہ نہ آئے یہ اس کی ہے مرضی شمار گردش لیل و نہار کون کرے جو میں بھی سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 261 سے 6203